فیصلہ سازوں کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں، 9 مئی حکومت کی انشورنس پالیسی ہے: عمران خان

اگر 9 مئی کو نظر انداز کیا گیا تو حکومت اور اس کی سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا: بانی پی ٹی آئی

84

راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے مذاکرات میں شامل ہونے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت صرف فیصلہ کرنے والوں سے ہوگی۔

اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران عمران خان نے ریمارکس دیئے کہ 9 مئی حکمرانوں کی ’’انشورنس پالیسی‘‘ ہے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر 9 مئی کو نظر انداز کیا گیا تو حکومت اور اس کی سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔

انہوں نے 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ “جب بھی مذاکرات کا موضوع آتا ہے، وہ 9 مئی کے بارے میں شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، ہم ان سے بات کریں گے جو فیصلے کرتے ہیں۔”

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے طور پر ان کی ممکنہ تقرری پاکستان کے لیے فخر کی بات ہوگی۔

تاہم، انہوں نے کہا کہ اگر وہ چانسلر نہیں بھی بنتے ہیں، تو یہ کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کرکٹ اور انسانی خدمت میں اپنی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے سب سے بڑے مخیر حضرات میں سے ہیں، جنہوں نے دو ہسپتال اور دو یونیورسٹیاں قائم کیں، ایک تیسری یونیورسٹی فی الحال زیر تعمیر ہے۔

عمران خان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں دو نئی انٹریز آنے والی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلی انٹری اس “یوٹرن” کے لیے ہوگی جس میں “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ “بوٹ کو عزت دو” سے بدل دیا گیا تھا۔

انہوں نے فوج اور مارشل لاء کے خلاف سابقہ ​​موقف پر نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف اور احسن اقبال نے بھی فوج کے خلاف سخت تنقید کی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اڑھائی سال تک ووٹ کو عزت دو کا کہتے رہے فوج اور مارشل لاؤں پر تنقید کرتے رہے۔ خواجہ آصف نے فوج کو جتنا برا بھلا کہا کسی نے نہیں کہا، احسن اقبال نے پہلی مرتبہ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا بتایا، احسن اقبال نے فوج سے متعلق کہا تھا یہ ریاست کے اندر ریاست ہے، احسن اقبال یہ بھی کہتے رہے پاکستان میانمار بننے جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گینز بک میں دوسری انٹری یہ ہوگی کہ نواز شریف چاروں امپائروں کو ملا کر کھیلا پھر بھی ہارگیا، دوسری پارٹی کو میچ کھیلنے ہی نہیں دیا گیا، ان کو جب معلوم ہوتا ہے کہ ہماری کوئی بات چیت چل رہی ہے ان کو 9 مئی یاد آجاتا ہے،پھر مطالبہ کرتے ہیں 9 مئی پر معافی مانگیں، نواز شریف کو جتانے کیلئے 74 ہزار ووٹ ڈلوائے گئے۔

بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی حکومت سے بات چل رہی ہے، بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہیں، بات ان کے ساتھ ہوگی جو فیصلے کی قابلیت رکھتے ہیں، ان سے بات کرنا الیکشن میں ان کے ڈاکے کو تسلیم کرنا ہے، ہمارے 8 ستمبر کے جلسے کے تین مقاصد ہیں، ایک مقصد چوری کیا ہوا مینڈیٹ پی ٹی آئی کو واپس کیا جائے۔ دوسرا مقصد قبضہ گروپ سے ملک کو حقیقی آزادی دلانی ہے۔ تیسرا مقصد ملک میں آزاد عدلیہ ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ کو لانے کیلئے عدلیہ پر حملہ کیا جارہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.