آئینی ترامیم پر حکومت کا مسودہ مکمل طور پر مسترد کردیا: فضل الرحمٰن

اب تو یہ بھی کہہ رہے ہیں یہ ہمارا مسودہ نہیں تھا، جو مسودہ پہلے فراہم کیا گیا تھا وہ کیا کھیل تھا؟ سربراہ جے یو آئی

67

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام ( جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ آئینی ترامیم پر حکومت کا مسودہ مکمل طور پر مسترد کردیا ہے، اب تو یہ بھی کہہ رہے ہیں یہ ہمارا مسودہ نہیں تھا، جو مسودہ پہلے فراہم کیا گیا تھا وہ کیا کھیل تھا؟

رہنما پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) اسد قیصر کی رہائش گاہ پہنچنے پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ  اسد قیصر کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ انہوں نے میرے بہت کھانے کھائے ہیں کھانا کھانے آئے تھے کھا کر جا رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت کا مسودہ مکمل طور پر مسترد کردیا ہے، اب تو یہ بھی کہہ رہے ہیں یہ ہمارا مسودہ نہیں تھا، جو مسودہ پہلے فراہم کیا گیا تھا وہ کیا کھیل تھا؟ مطالعہ کرنے کے بعد وہ مسودہ کسی لحاظ سے قابل قبول نہیں تھا یہ قوم سے بڑی خیانت ہوتی اگر اس کا ساتھ دیتے۔

دریں اثنا انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اڈیالہ جیل میں مبینہ گفتگو پر جواب دینے سے گریز کیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق صدر عارف علوی اور رؤف حسن بھی ظہرانے میں شریک ہوئے۔ اسد قیصر نے گزشتہ روز مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر جا کر انہیں ظہرانے کی دعوت دی تھی۔ آئینی ترامیم کےلیے حمایت حاصل کرنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن وفود نے مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی تھی۔ اس سلسلے میں اسد قیصر کافی متحرک رہے۔ عارف علوی بھی مولانا سے ملے تھے۔

فضل الرحمٰن کی حمایت کے بغیر آئینی ترامیم ممکن نہیں: بلاول

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی حمایت کے بغیر آئینی ترامیم ممکن نہیں۔

ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول نے مجوزہ آئینی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے جے یو آئی-ف کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ جے یو آئی-ف اپنی ترامیم کا مسودہ تیار کر رہی ہے، اور آگے بڑھنے کے لیے فضل الرحمٰن کو شامل کرنا بہت ضروری ہے۔

بلاول نے کہا کہ “ہماری کوشش اتفاق رائے پیدا کرنا ہے، اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بات چیت کرنا ضروری ہے۔ اگر وہ راضی ہو جائیں تو آگے بڑھنے میں ایک یا دو ماہ سے زیادہ وقت نہیں لگے گا،”

پی پی پی رہنما نے بتایا کہ کہ حکومت نے پہلے ہی ان کی پارٹی کی طرف سے اٹھائے گئے متعدد خدشات کو دور کیا ہے، اور وہ ہر طرف سے تجاویز کی باہمی قبولیت کی توقع رکھتے ہیں۔

بلاول نے حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے ججوں کی عمر کی حد تین سال کے ساتھ 67 سال کرنے کی تجویز کا بھی ذکر کیا، جب کہ جے یو آئی-ف نے عمر کی حد 65 سال کرنے کی تجویز دی۔

پی پی پی ایک علیحدہ کمیٹی بنانے پر زور دے رہی ہے، جیسا کہ جے یو آئی-ف نے تجویز کیا ہے، جس میں تقرری کے عمل میں پارلیمانی اراکین، ججز اور بار کے نمائندے شامل ہوں گے۔

بلاول نے اصلاحات کو حتمی شکل دینے کے لیے جے یو آئی-ایف اور پی ٹی آئی دونوں کی حمایت حاصل کرنے کے بارے میں امید ظاہر کی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.