ایف آئی اے نے صارم برنی کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا

امریکی حکام بھی بچوں کی سمگلنگ میں سماجی کارکن کے ملوث ہونے کی تحقیقات کر رہے ہیں: ایف آئی اے اہلکار

65

کراچی: مقامی عدالت نے انسانی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار صارم برنی کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حوالے کردیا۔

تفتیشی افسر چوہدری بلال نے برنی کو انسانی سمگلنگ کے الزام میں گرفتاری کے ایک دن بعد جوڈیشل مجسٹریٹ خلیق زمان کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سماجی کارکن کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں دیا جائے۔

تفتیشی افسر نے کہا کہ برنی کی تحویل اس کا بیان ریکارڈ کرنے، متعلقہ ریکارڈ حاصل کرنے اور اس کے ساتھی ملزم کو گرفتار کرنے کیلئے ضروری ہے ،انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایف آئی اے کی تحویل میں نہ دیا گیا تو شواہد کے تباہ ہونے کا خطرہ ہے۔

دلائل سننے کے بعد مجسٹریٹ نے ملزم کو دو روزہ ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا اور ریمانڈ مکمل ہونے پر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مقدمے کی پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی۔

دریں اثنا، عدالت نے برنی کو کیس سے بری کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

آج کیس کی سماعت کے دوران سماجی کارکن کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کے موکل کو رہا کیا جائے کیونکہ اس معاملے کے حوالے سے کوئی مقدمہ نہیں ہے۔

ان کے وکلاء کا کہنا تھا کہ برنی کی معاشرے کے لیے شاندار خدمات ہیں اور انہیں جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

ان کے وکیل نے کہا، “صارم کو سماجی خدمات کے لیے ایوارڈز ملے ہیں۔ وہ کچھ غلط کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے،” ۔

برنی – جو کہ صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ انٹرنیشنل چلاتے ہیں، ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے – ان کو بدھ کے روز اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ امریکہ کے دورے کے بعد کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترے۔

ایف آئی اے کے مطابق سماجی کارکن کو انسانی سمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا جس میں امریکی حکام کی جانب سے اس کے خلاف شکایت درج ہونے کے بعد بچوں کی سمگلنگ اور غیر قانونی طور پر امریکا بھیجنا شامل ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق اس پر 25 سے زائد بچوں کو امریکا سمگل کرنے اور انہیں غیر قانونی طور پر ملک میں گود لینے کا الزام تھا۔ ایجنسی نے کہا کہ اس پر دھوکہ دہی اور دستاویزات میں جعل سازی کا بھی الزام ہے۔

بچوں کو امریکہ سمگل کرنے کے الزامات کے بعد سماجی کارکن کے خلاف تحقیقات شروع کی گئیں۔

ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ معاملے کی تفتیش کے لیے برنی کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

کیس میں برنی کی نمائندگی وکیل سید آصف علی کر رہے تھے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سماجی کارکن کی ٹیم کو عدالت پہنچنے کے لیے کچھ وقت دیا جائے جس کے بعد عدالت نے انہیں 15 منٹ کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔

وکیل نے عدالت سے کچھ مہلت مانگتے ہوئے کہا، “ابتدائی طور پر یہ اطلاعات تھیں کہ صارم برنی کو ملیر کی عدالت میں لے جایا جا رہا ہے۔ ہماری قانونی ٹیم وہاں گئی تھی۔”

قبل ازیں، ایف آئی اے نے کہا کہ سماجی کارکن نے اپنی گرفتاری کے بعد اپنے خلاف انسانی سمگلنگ کیس میں “غلط کام” کا اعتراف کیا۔

حکام نے کہا، “صارم برنی سے دو بار پوچھ گچھ کی گئی۔ اس نے اپنی گرفتاری کے بعد ابتدائی بیان میں غلطی کا اعتراف کیا۔”

ایف آئی اے نے مزید انکشاف کیا کہ سماجی کارکن اپنے حالیہ دورے کے دوران امریکہ میں بھی حکام کی نگرانی میں تھا۔ ایف آئی اے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ امریکی حکام سماجی کارکن کی طرف سے بچوں کی سمگلنگ کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔

ایف آئی اے نے برنی کے خلاف انسانی سمگلنگ سیل میں مقدمہ درج کرنے کے بعد اس پیشرفت کی تصدیق کی۔ صارم برنی کے خلاف بچوں کی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے مزید مقدمات درج کیے جائیں گے۔

دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ امریکا منتقل کیے گئے بچوں کا ریکارڈ سفارتخانے کی جانب سے ایف آئی اے حکام کو فراہم کردیا گیا ہے۔

ایف آئی اے نے بتایا کہ سماجی کارکن پر حیا نامی نوزائیدہ بچی کو امریکا سمگل کرنے کا الزام ہے۔

ایجنسی کے عہدیداروں نے کہا، “امریکہ بھیجے جانے والوں میں 15 سے زیادہ لڑکیاں ہیں۔”

حکام نے مزید کہا کہ برنی نے بچے کو اس کے والدین سے 10 لاکھ روپے میں خریدا اور اسے امریکا بھیج دیا۔ لڑکی کی خریداری میں ایک سے زیادہ افراد نے صارم برنی کی مدد کی۔

ایف آئی اے حکام نے بچے کے والدین کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے جو کہ انتہائی غریب ہیں۔

ایف آئی اے نے بتایا کہ برنی کے خلاف درج مقدمے میں، اس پر ایک سال میں کم از کم 20 نوزائیدہ بچوں کو امریکہ میں گود لینے کے لیے سمگل کرنے کا الزام ہے۔

دریں اثنا، ذرائع نے بتایا کہ برنی کی اہلیہ عالیہ بھی ٹرسٹ کی دستاویزات میں بینیفشری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دستاویزات کے بعد برنی کی اہلیہ کو بھی مقدمے میں نامزد کیا جا سکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.