پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں فتنہ ہے، جتھوں کیخلاف مقدمات درج کیے جائیں: شہباز شریف
احتجاج کے دوران جتھے نے ہر طرح سے توڑ پھوڑ کی جس سے معیشت کو نقصان پہنچا: وزیراعظم
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سیاسی جماعت نہیں فتنہ ہے، تخریب کاری کا ایک جتھہ اور گروہ ہے، ان جتھوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔
یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں امن و امان کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، افواج پاکستان کے دیگر سربراہان، وفاقی وزرا و دیگر موجود تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہاں حالات خراب کرنے کے لیے خیبرپختون خوا سے ایک جھتہ ہر طرح سے لیس ہوکر آیا تھا، احتجاج کے دوران جتھے نے ہر طرح سے توڑ پھوڑ کی جس سے معیشت کو نقصان پہنچا،وہ تماشا لگایا جسے میں الفاظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔
شہباز شریف کا کہنا تھاکہ یہ وفاق کے خلاف تیسری، چوتھی لشکرکشی ہے، ایسے ناپاک عزائم کا 2014 سے پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، ڈی چوک پر 126 دن پاکستان کی رسوائی اورمعیشت کی تباہی کی گئی اور دھرنےکے باعث چینی صدر کا دورہ بھی منسوخ ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بیلاروس کے صدر نے خندہ پیشانی اور حوصلے کے ساتھ دورہ مکمل کیا، ایس سی او کانفرنس کے موقع پر انہوں نے چڑھائی کی کوشش کی، پاکستان کی معیشت کو ایسا گھاؤ لگا جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، جتھے نے تباہی کی، 4 رینجرز اور ایک پولیس اہلکار شہید ہوا۔
ان کا کہنا تھاکہ اب موقع ہے کہ آگے بڑھا جائے، چند دن پہلے خیبرپختونخوا سے ایک جتھہ اسلام آباد پرحملہ آور ہونےآیا تھا، احتجاج اور دھرنوں سے پاکستان کی معیشت کویومیہ 190 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے، دنیا کے سامنے جو تماشا لگایا گیا اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
وزیراعظم کا کہنا تھاکہ ایسی مذموم سوچ میں نے کسی اور سیاسی جماعت میں نہیں دیکھی، اسلام آباد میں چڑھائی کرنی ہے چاہے پاراچنار میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اکتوبرمیں چینی وزیراعظم کے دورے کے دوران بھی احتجاج کیا گیا، اس سے بڑی پاکستان کے ساتھ دشمنی اورکیا ہوسکتی ہے؟ ان کو کوئی احساس نہیں کہ دوست ممالک یہاں پرسرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، ان کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ پاکستان کو تباہ کیا جائے۔
شہباز شریف نے حکم دیا کہ یہ سیاسی جماعت نہیں فتنہ ہے، تخریب کاری کا ایک جتھہ اور گروہ ہے، ان جتھوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ معیشت میں استحکام آرہا ہے، فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا پاکستان کو اس فتنے کے حوالے کرنا ہے؟ کیا پاکستان کو اس تخریب کار پارٹی کے حوالے کرنا ہے؟ پاراچنار کی طرف خیبرپختونخوا حکومت کی کوئی توجہ نہیں،ان کوپاکستان کوتباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور ہمیں چاہیے ایسے ہاتھ توڑ دیں۔