پی ٹی آئی نے 26 ویں آئینی ترمیم کیلئے ’ہاں‘ کر دی؟

جو پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا جو ان کے بانی کے ساتھ ہوا ان کا اختلاف بنتا ہے: مولانا فضل الرحمان

97

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 26 ویں آئینی ترمیم کیلئے ووٹ نہ دینے کا اعلان کردیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہم مولانا صاحب کے گھر آئے تھے، ہماری ملاقاتیں کافی عرصے سے جاری ہیں، مولانا نے بردباری کا مظاہرہ کیا،ہمارے دکھ درد کو سمجھا اور ہم مولانا فضل الرحمان کے تہہ دل سے مشکور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  ہم نے آج بھی حکومتی مسودہ پر غور کیا ہے، ہم ہر فیصلہ بانی پی ٹی آئی کے مشورے سے کرتے ہیں، 26ویں ترمیم پر مولانا کے کردار کی قدر کرتے ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے اعلان کیا کہ تحریک انصاف 26 ویں ترمیم میں ووٹ نہیں دے گی لیکن  پی ٹی آئی فلور پر جائے گی اور اپنا مؤقف بتائے گی مگر ووٹ نہیں کریں گے، مولانا ہمارے ساتھ رہے ان کے معتقد ہیں، مولانا بالکل آزاد ہیں اور ان کے بل کی حمایت کرنے کو ہم سراہیں گے۔

اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ہم نےمجموعی طور پرکالے سانپ کے دانت توڑ دیے، زہر نکال دیا ہے، پی ٹی آئی کو متن پراعتراض نہیں، آئین قوم کا ہوتا ہے، ہم نے مل کر محنت کی لیکن ایک پارٹی کی اپنی کوشش ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سمجھتا ہوں پی ٹی آئی نے جائز احتجاج کیا ہے، جو پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا جو ان کے بانی کے ساتھ ہوا ان کا اختلاف بنتا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ جو بل ہم نے مسترد کیا تھا اس کو تبدیل کردیا گیا ہے، ہم نے لمبا عرصہ نمائش کے لیے تو نہیں گزارا، آئین پاکستان تب بنا جب بلوچستان اسمبلی کو توڑ دیا گیا تھا، میرے والد مولانا مفتی محمود نے پھر بھی آئین سازی میں حصہ لیا، ترمیم کے لیے کسی پارٹی پر جبر نہیں کرسکتے۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ سینیارٹی کے ساتھ کارکردگی کی بھی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.