لبنان میں پیجرز دھماکے : کیا آپکے زیر استعمال سمارٹ فونز میں بھی دھماکے کیے جا سکتے ہیں؟
ویسے تو سمارٹ فونز خراب یا بہت زیادہ گرم ہو جاتے ہیں مگر ان کے پھٹنے کے واقعات کبھی کبھار ہی سامنے آتے ہیں۔
لبنان میں 17 ستمبر کو ہزاروں پیجرز دھماکے سے پھٹ گئے تھے۔
یہ دھماکے متعدد عوامی مقامات جیسے دکانوں، بازاروں اور دیگر پرہجوم جگہوں پر ہوئے اور ایسے کچھ دھماکوں کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں۔
ویسے تو پیجرز کا استعمال اب کافی حد تک ختم ہوچکا ہے اور ان کی جگہ جدید ڈیوائسز جیسے سمارٹ فونز نے لے لی ہے۔
دنیا بھر میں اربوں سمارٹ فونز کا استعمال کیا جارہا ہے تو کیا جس طرح لبنان میں پیجرز کو بڑے پیمانے پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا ویسا سمارٹ فونز کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے؟
پیجر کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟
خیال رہے کہ حزب اللہ کی جانب سے پیجرز کا استعمال سکیورٹی خدشات کی وجہ سے کیا جا رہا تھا۔
پیجرز کو ٹریک اور ہیک کرنا مشکل ہوتا ہے اور رپورٹ سے عندیہ ملا ہے کہ بارودی مواد ان ڈیوائسز میں نصب کیا گیا تھا۔
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس نے دھماکا خیز مواد پیجرز میں نصب کیا جو ایک تائیوانی کمپنی نے تیار کیے تھے۔
اگرچہ کمپنی کی جانب سے اس طرح کے دعوؤں کی تردید کی گئی ہے مگر شواہد سے عندیہ ملا ہے کہ دھماکا خیز مواد کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دور سے پھاڑا گیا۔
تو کیا سمارٹ فونز کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے؟
پیجرز کے مقابلے میں سمارٹ فونز زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں جن میں سافٹ ویئر سسٹمز اور نیٹ ورک کنکشنز ہوتے ہیں۔
ہیکرز سمارٹ فونز سافٹ ویئرز کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر انہیں زیادہ گرم یا خراب کرسکتے ہیں مگر ان کے ذریعے لبنان جیسا حملہ کرنا بہت زیادہ مشکل ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ سمارٹ فونز میں سکیورٹی کی متعدد تہیں ہوتی ہیں اور ان میں صارفین کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جو بیٹری کو حد سے زیادہ گرم ہونے سے روکتے ہیں۔
جدید سمارٹ فونز مختلف میکنزمز جیسے ٹمپریچر ریگولیشن سرکٹس سے لیس ہوتے ہیں جو ڈیوائس زیادہ گرم ہونے پر خودکار طور پر چارجنگ روک دیتے ہیں۔
ایڈوانس کولنگ سسٹمز جیسے ویپر چیمبرز بھی سمارٹ فونز میں موجود ہیں جو اضافی حرارت کے اخراج کو یقینی بناتے ہیں۔
ویسے تو سمارٹ فونز خراب یا بہت زیادہ گرم ہو جاتے ہیں مگر ان کے پھٹنے کے واقعات کبھی کبھار ہی سامنے آتے ہیں۔
ایسا بھی بہت کم ہوتا ہے جب کسی سمارٹ فون میں آگ لگ جاتی ہے جو کسی ہیکر کی کارروائی کی بجائے ڈیوائس کو پہنچنے والے نقصان یا ناقص پرزہ جات کا نتیجہ ہوتی ہے۔
یہاں تک کہ اگر ہیکرز کسی طرح دور بیٹھے سمارٹ فون کی بیٹری کو گرم کرنے کے قابل ہو بھی جائیں تو بھی بڑے پیمانے پر ان کے پھٹنے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
بہت زیادہ گرم ہونے پر کسی فون کے پھولنے یا کسی حد تک جلنے کا امکان تو ہوتا ہے مگر لبنان میں جس طرح بڑے پیمانے پر پیجرز کے دھماکے ہوئے، ویسا سمارٹ فونز کے ذریعے کرنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔