کمسن ملازمہ پر مبینہ تشدد: جج کا بچی کی والدہ سے رابطہ، صلح اور رقم کی پیشکش

132

اسلام آباد میں سول جج عاصم حفیظ نے اہلیہ کے ہاتھوں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بننے والی کمسن بچی کی والدہ سے رابطہ کرکے صلح کی پیشکش کردی۔

متاثرہ بچی کی والدہ نے بتایاکہ سول جج نے رابطہ کرکے صلح اور رقم کی پیش کش کی لیکن ہم نے پیشکش قبول کرنے سے انکار کردیا۔

والدہ کے مطابق جج نے کہا علاج کا سارا خرچہ اورالگ سے بھی رقم دینےکو تیار ہوں لیکن ان کو واضح کردیا ہے مجھے انصاف چاہیے۔

متاثرہ بچی کی والدہ کا کہنا تھاکہ جج کو کہا آپ عدالتوں میں انصاف کرتے ہیں آج اپنے کیس میں بھی انصاف کریں، ہماری بچی کی صورتحال بہت نازک ہے، ہم صلح کسی صورت نہیں چاہتے۔

سول جج کی اہلیہ کے خلاف مقدمہ درج

دوسری جانب اسلام آباد کے تھانہ ہمک میں سول جج کی اہلیہ سومیہ بی بی پر کم سن ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

وفاقی پولیس نے بچی کے مبینہ الزام پر اس کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا جس میں حبس بے جا میں رکھنے اور تشدد کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ 6 ماہ سے 14 سالہ رضوانہ 10 ہزار ماہانہ تنخواہ پر سول جج عاصم حفیظ کے گھر ملازم تھی، بچی سے ملاقات کیلئے آنے پرمعلوم ہوا کہ وہ حبس بے جا میں بدترین تشدد کا شکار ہے، سول جج کی اہلیہ کے تشدد سے بچی کا دانت، ناک بازو اور پسلیاں ٹوٹے ہوئے ہیں۔

اُدھر لاہور کے جنرل ہسپتال میں متاثرہ بچی کے سرکا آپریشن کرلیا گیا اور زخم میں پڑے کیڑے صاف کرکے پٹی کر دی گئی، دونوں فریکچر بازوں کی کلائی سے کہنی تک آپریشن کیا جائے گا۔

 بہتر نگہداشت کے لیے ہسپتال انتظامیہ نے 12رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.