آرٹیکل 63 اے کی سماعت جسٹس منیب کی بنچ میں بیٹھنے سے معذرت، چیف جسٹس کا منانے کا عندیہ

امید ہے جسٹس منیب اختر دوبارہ بینچ میں شامل ہو جائینگے، جسٹس منیب بنچ میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں، دونوں صورتوں میں کل کیس کی سماعت ہو گی: چیف جسٹس

71

اسلام آباد: منحرف اراکین پارلیمنٹ کا ووٹ شمار نہ کرنے کے فیصلے کے خلاف آرٹیکل 63 اے پر نظرثانی اپیلوں پر سماعت ہوئی تاہم وہ جسٹس منیب کی عدم شرکت پر ملتوی ہوگئی، چیف جسٹس نے انہیں منانے کا عندیہ دیا اور کہا ہے کہ انہیں راضی کریں گے اگر وہ شامل نہ ہوئے تو نیا بنچ تشکیل دیا جائے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں لارجر بنچ نے آرٹیکل 63 اے سے متعلق نظرثانی اپیل پر سماعت کی۔ بنچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس مظہرعالم میاں خیل شامل ہیں تاہم جسٹس منیب نے شرکت نہیں کی اور چیف جسٹس کے دائیں جانب کرسی خالی رہی۔

63 اے کا مقدمہ بڑا اہم ہے، جج کا مقدمہ سننے سے انکار عدالت میں ہوتا ہے: چیف جسٹس

چیف جسٹس نے کہا کہ پانچ رکنی بنچ تشکیل دیا گیا تھا، سابق چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے کیس سنا تھا، آرٹیکل 63 اے کا 3 رکن اکثریتی فیصلہ دیا گیا تھا، شفافیت کی بنیاد پر بنچ تشکیل دیا گیا، جسٹس منیب اختر نے رجسٹرار کو خط لکھا ہے میں آج اس کیس میں شامل نہیں ہوسکتا انہوں نے لکھا ہے کہ ان کا خط اس نظرثانی کیس میں ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ایسےخط کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی روایت نہیں ہے، جسٹس منیب کا خط عدالتی فائل کا حصہ نہیں بن سکتا، مناسب ہوتا جسٹس منیب اختربینچ میں آکر اپنی رائے دیتے، میں نے اختلافی رائے کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے، نظرثانی کیس دو سال سے زائد عرصہ سے زیرالتواء ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا 63 اے کا مقدمہ بڑا اہم ہے، جج کا مقدمہ سننے سے انکار عدالت میں ہوتا ہے، جسٹس منیب اختر کی رائے کا احترام ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ابھی اُٹھ رہے ہیں، جسٹس منیب اختر کو درخواست کریں گے کہ وہ بنچ میں شامل ہوں، جسٹس منیب اختر نے آج مقدمات کی سماعت کی ہے وہ ٹی روم میں بھی موجود تھے، ان کا آج کی سماعت میں شامل نہ ہونا ان کی مرضی تھی، ہم کل دوبارہ اس نظرثانی کیس کی سماعت کریں گے، امید کرتے ہیں کہ جسٹس منیب اختر کل سماعت میں شامل ہوں۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ قانون کا تقاضا ہے کہ نظرثانی اپیل پر سماعت وہی بنچ کرے صرف سابق چیف جسٹس کی جگہ میں نے پوری کی، جسٹس اعجاز الاحسن کی جگہ جسٹس امین الدین کو شامل کیا گیا، ہم جسٹس منیب کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے ورنہ بنچ کی تشکیل نو ہوگی۔

چیف جسٹس پاکستان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ اس پر انہوں ںے کہا کہ ہم چیف جسٹس پاکستان کی دانش کو سراہتے ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ بنچ کل دوبارہ بیٹھے جبکہ بیرسٹرعلی ظفر نے کمیٹی پر تحفظات کا اظہار کر دیا اور کہا کہ کمیٹی تب ہی بنچ بنا سکتی ہے جب تینوں ممبران موجود ہوں۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس بھیجا گیا تھا، سپریم کورٹ کے تین رکنی اکثریتی فیصلے میں کہا گیا منحرف اراکین کا ووٹ شمار نہیں ہوگا، اکثریتی فیصلے کی رائے جسٹس منیب اختر نے تحریر کی تھی جبکہ  جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس مظہر عالم میاں نے اکثریتی رائے سے اختلاف کیا تھا۔

ترمیمی آرڈیننس کے تحت ججز کمیٹی نے پانچ رکنی لارجر بنچ تشکیل دیا۔ سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے ججز کمیٹی سے جسٹس منیب اختر کے ججز کمیٹی سے باہر رکھنے پر اختلاف کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.