پاور سیکٹر انڈیجنائزیشن : نیشنل گرڈ کمپنی اورلمزانرجی انسٹیٹیوٹ کے زیراہتمام قومی مشاورتی ورکشاپ 24 مئی کو ہوگی
وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس لغاری قومی مشاورتی ورکشاپ کے مہمان خصوصی ہوں گے۔
لاہور: نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان (سابقہ این ٹی ڈی سی) اور لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے 24 مئی 2025 بروز ہفتہ، لمز لاہور میں پاور سیکٹر انڈیجنائزیشن روڈ میپ پر قومی مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس لغاری اس موقع پر مہمان خصوصی ہوں گے ۔
چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل انجینئر وسیم نذیر بھی شرکاء سے خطاب کریں گے اور مقامی صنعتوں کے فروغ کو تیز کرنے میں ریگولیٹری اداروں کے کردار پر روشنی ڈالیں گے۔
چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز این جی سی اور لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ایڈوائزر ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری نے اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ورکشاپ کا مقصد پاور سیکٹر، مقامی مینوفیکچررز، ریگولیٹری اتھارٹیز اور ماہرین کو اکٹھا کرنا ہے تاکہ پاکستان میں برقی آلات کی تیاری کے نظام کو مستحکم کرنے کے لیے ایک متفقہ اور قابل عمل لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔
ورکشاپ میں پاکستان کے پہلے پاور ایکوئپمنٹ مینوفیکچرنگ ڈیش بورڈ کا باضابطہ آغاز کیا جائے گا، یہ ایک ریئل ٹائم ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو لوکلائزیشن پر پیشرفت، وینڈرز کی استعداد کی نشاندہی اور سٹریٹجک سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ ٹول لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ نے تیار کیا ہے اور یہ پاور سیکٹر انڈیجنائزیشن پلان (پی ایس آئی پی) کا اہم حصہ بنے گا۔
ورکشاپ میں چیئرمین واپڈا، منیجنگ ڈائریکٹر پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی، بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈ چیئرمین، چیف ایگزیکٹو آفیسر کے الیکٹرک، چیف ایگزیکٹو آفیسر سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی اور حکومت، صنعت اور ریگولیٹری اداروں کے دیگر سینئر نمائندے شرکت کریں گے۔
ورکشاپ میں جنریشن، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں مقامی سطح پر تیارہ کردہ اہم برقی آلات کے استعمال میں درپیش چیلنجز اور امکانات پر ماہرین کی زیر قیادت الگ الگ مباحثے ہوں گے جبکہ ورکشاپ کے خصوصی سیشنز میں مقامی مینوفیکچررز کی جانب سے قومی طلب کو پورا کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا جائے گا اور قابل عمل نتائج کے لیے سٹیک ہولڈرز کی سفارشات کو براہ راست فیصلہ سازوں کو پیش کیا جائے گا۔
یہ بروقت اقدام نیشنل الیکٹریسٹی پالیسی 2023-2027 کے تحت پاکستان میں جاری انرجی سیکٹر اصلاحات کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس میں درآمدآت پر انحصار کم کرنے اور مقامی استعداد کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔ سرکاری اداروں، صنعتوں اور ماہرین کے اشتراک سے منعقد ہونے والی یہ مشاورتی ورکشاپ خود انحصاری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی پائیداری میں اہم کردار ادا کرے گی۔
منیجنگ ڈائریکٹر این جی سی انجینئر محمد وسیم یونس کی ہدایات پر ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر (پی اینڈ ای) انجینئر ڈاکٹر خواجہ رفعت حسن اور ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر (اے ڈی اینڈ ایم) انجینئر رشید اے بھٹو کی صدارت میں واپڈا ہاؤس لاہور میں کنٹریکٹرز اور سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک مشاورتی اجلاس ہوا۔ اس اجلاس کی تجاویز و آرا کو بھی ورکشاپ کی تیاریوں میں شامل کیا گیا ہے۔
لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ ایک قومی سطح پر تسلیم شدہ تھنک ٹینک ہے جو پاکستان کے پائیدار اور محفوظ توانائی کے نظام کی طرف منتقلی کو تیز کرنے کے لیے وقف ہے۔ ڈیٹا پر مبنی تجزیہ، تحقیق اور سٹریٹجک پالیسی ڈیزائن کے ذریعے، لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ ملک کے توانائی کے محفوظ مستقبل کے لیے شواہد پر مبنی حل تیار کرنے کے لیے حکومتی اداروں، صنعتکاروں اور عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔