جسٹس یحییٰ آفریدی نئے چیف جسٹس آف پاکستان نامزد
پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی نے دو تہائی اکثریت سے منظوری دی، پی ٹی آئی ممبران اجلاس میں شریک نہ ہوئے
اسلام آباد: پارلیمان کی خصوصی کمیٹی نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان تعینات کرنے کی سفارش کردی۔
چیف جسٹس کی تقرری کے حوالے سے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا دوسری بار ہونے والا اجلاس دیڑھ گھنٹے تک ہوا، جس میں تحریک انصاف کے علاوہ باقی تمام اراکین نے شرکت کی۔
رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا بند کمرہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم 5 میں ہوا۔ پی ٹی آئی کے 3 ارکان علی ظفر، بیرسٹر گوہر اور حامد رضا نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ۔
اجلاس میں راجہ پرویزاشرف، فاروق ایچ نائیک،سید نوید قمر،کامران مرتضیٰ، رعنا انصار، احسن اقبال، شائشتہ پرویز ملک، اعظم نذیر تارڑ اور خواجہ آصف شریک ہوئے۔
کمیٹی نے دو تہائی اکثریت سے یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان تعینات کرنے کی منظوری دی اور وزیراعظم کو یحییٰ آفریدی کا نام منظوری کیلیے ارسال کردیا۔
اس سے قبل نئے چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی کے لیے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس پی ٹی آئی کے انکار کے بعد دوبارہ شروع ہوا، تحریک انصاف کو منانے کی کوشش کی گئی تاہم پی ٹی آئی نے صاف انکار کیا۔
نئے چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی کے لیے رجسٹرار سپریم کورٹ نے تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے گئے تھے۔ جن میں موسٹ سینئر جسٹس منصور ہیں اور ان کے بعد جسٹس منیب اور جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام شامل تھے۔
اسی کے ساتھ سپریم کورٹ رجسٹرار کی جانب سے ایک صفحے پر مشتمل مختصر رپورٹ بجھوائی گئی جس میں ججز کا مختصر پروفائل، تاریخ پیدائش، تعلیم، وکالت کی تفصیلات، کب جج بنے؟ کب ہائی کورٹس کے چیف جسٹس بنے، سپریم کورٹ میں تعیناتی کی تاریخ بھی شامل تھی۔
تحریک انصاف کے بائیکاٹ کے بعد حکومتی کمیٹی نے پی ٹی آئی کو منانے کا فیصلہ کیا ہے اور چار ارکان پی ٹی آئی کے پاس جائیں گے۔ خواجہ آصف ،احسن اقبال، راجہ پرویز اشرف اور رعنا انصار روانہ ہوئے۔
بعد ازاں مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جبکہ سپیکر قومی اسمبلی اور خصوصی کمیٹی کے اراکین نے پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کرکے انہیں کمیٹی اجلاس میں شرکت پرراضی کرنے کی کوشش کی۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ غیر قانونی طریقے سے ہونے والی آئینی ترمیم کے بعد ہم کسی بھی کمیٹی کا حصہ نہیں بن سکتے اور یہ فیصلہ ہماری سیاسی کمیٹی کا ہے۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے چیف جسٹس کی تقرری کے معاملے کا مکمل بائیکاٹ کیا۔
اس سے قبل دوران اجلاس جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تاہم پی ٹی آئی ممبران نے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ہمیں سنی اتحاد کونسل کے اراکین کو منانا چاہیے، جمہوریت کا حسن ہے کہ اپوزیشن کو منایا جائے، 4 اراکین سنی اتحاد کونسل کے پاس جائیں اور ان کو منا کرلائیں۔
اس کے بعد اجلاس میں وقفہ کردیا گیا ۔
میڈیا سےگفتگو میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اب ساڑھے 8 بجے دوبارہ اجلاس ہوگا، کمیٹی میں ایک جماعت نے شرکت نہیں کی، ہم نے سپیکر سے بھی درخواست کی ہے، ہم جمہوری لوگ ہیں، چاہتے ہےکہ اس معاملے کو جمہوری انداز سے دیکھیں۔ اپوزیشن کومنانے کے لیے پارلیمانی کمیٹی نے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں راجہ پرویز اشرف، کامران مرتضیٰ، رعنا انصار اور احسن اقبال شامل ہیں، کمیٹی اپوزیشن کے پاس ان کے چیمبر میں جائے گی۔
پی ٹی آئی کا پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت سے انکار
چار رکنی کمیٹی کے سنی اتحاد کونسل سے مذاکرات ناکام ہوئے اور سنی اتحاد کونسل نے پارلیمانی کمیٹی برائے چیف جسٹس تقرری میں شرکت کرنے سے انکار کیا ۔
نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کے حوالے سے سپیکر چیمبر میں اجلاس ہوا، مذاکراتی عمل کے لیے سپیکر نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر کو بلایا۔
4 رکنی کمیٹی نے پی ٹی آئی چیئرمین کو مشاورت کے لیےکمیٹی میں آنےکی درخواست کی تاہم بیرسٹرگوہر نےکمیٹی اجلاس میں شرکت سے معذرت کرلی۔
بیرسٹرگوہرکا کہنا تھا کہ ہماری سیاسی کمیٹی کا فیصلہ ہےکہ پارلیمانی کمیٹی میں شریک نہ ہوں۔
وقفےکے بعد چیف جسٹس کی تقرری کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا اور جسٹس یحییٰ کے نام پر اتفاق کرلیا گیا۔