ایرانی حملے: وزیرِاعظم نیتن یاہو کئی گھنٹے زیرِزمین بنکر میں دبکے رہے، پریس کانفرنس میں خوف سے ہاتھ کانپ رہے تھے
اسرائیلی وزیراعظم، وزیر دفاع اور کابینہ کے ارکان 4 گھنٹوں تک زیر زمین بنکر پناہ لیے رہے
تل ابیب: اسرائیلی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ شب ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کے وقت اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ڈر کے مارے زیرِزمین بنکرز میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے، نیتن یاہو اتنے خوف زدہ ہوئے کہ پریس کانفرنس میں ردعمل دیتے ہوئے بھی ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 13 کے مطابق جیسے ہی ایرانی میزائلوں نے اسرائیلی سرحد عبور کی تو سائرن بجنے لگے اور وزیراعظم نیتن یاہو اپنی کابینہ کے متعدد ارکان کے ساتھ بھاگ کر زیرزمین بنکرز میں جا چھپے ۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کی کابینہ کے ارکان کئی گھنٹوں تک زیر زمین بنکرز میں رہے یہاں تک کہ جب ایران نے حملہ مکمل ہونے کا اعلان کیا۔
ایران کے بیان کے بعد وزیراعظم نیتن یاہو اور کابینہ کے ارکان کم از کم 4 گھنٹے بعد زیر زمین پناہ گاہوں سے باہر نکلے۔
اس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کو دھمکیاں دیتے ہوئے جو بیان جاری کیا اس میں بھی وہ نہایت خوف زدہ تھے اور ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ہنگامی پریس کانفرنس میں ایران کو دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ جو ہم پر حملہ کرے گا ہم اس پر حملہ کر دیں گے۔ لیکن ان کے خوف کا یہ عالم تھا کہ ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملہ حزب اللہ کے حسن نصر اللہ اور حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا بدلہ لینے کےلیے کیا ہے۔
ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے عبرانی زبان میں کی گئی اپنی ٹوئٹ میں اسرائیل کو پہلے زیادہ شدید اور طاقتور حملوں سے خبردار کیا ہے۔
ایران نے گزشتہ شب اسرائیل پر 200 سے زائد میزائل داغے تھے جو اس کے 3 فوجی مراکز پر گرے تھے۔