دوران عدت نکاح: کمرہ عدالت میں ‘ہنگامہ’ ، جج کا کیس منتقلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط
جج شاہ رخ ارجمند نے اپنے خط میں لکھا کہ اپیلوں کا فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ مانیکا کو عدالت پرعدم اعتماد ہے۔
اسلام آباد : ڈسٹرکٹ اینڈسیشن کورٹ اسلام آباد شاہ رخ ارجمند بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر محفوظ فیصلہ سنائے بغیر چلے گئے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے بدھ کے روز ریمارکس دیئے کہ خاور مانیکا اور ان کے وکیل نے ہمیشہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر سماعت میں خلل ڈالنے کی کوشش کی اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی کہ وہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی درخواستیں دوسری عدالت کو ٹرانسفر کر دیں ۔
خاور مانیکا اور ان کے وکلاء نے کمرہ عدالت میں اس وقت ہنگامہ کھڑا کر دیا جب وہ اپیلوں پر اپنے محفوظ کردہ فیصلے کا اعلان کرنے والے تھے۔ تاہم جج فیصلے کا اعلان کیے بغیر اپنے چیمبر میں ریٹائر ہو گئے۔ بعدازاں فاضل جج نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو خط لکھا ۔
جج شاہ رخ ارجمند نے اپنے خط میں لکھا کہ اپیلوں کا فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ مانیکا کو عدالت پرعدم اعتماد ہے۔
ابتدائی کارروائی
دن کی کارروائی شروع ہوئی تو جج نے سرکاری وکیل رضوان عباسی کے بارے میں پوچھا۔ ان کے معاون نے انہیں بتایا کہ انہیں سپریم کورٹ میں پیش ہونا ہے۔
جج نے ریمارکس دیے کہ رضوان عباسی کو وقت پر عدالت میں ہونا چاہیے تھا۔ ان کے معاون وکیل نے جواب دیا کہ انہوں نے اپیل کے خلاف دلائل دینے ہیں لیکن پہلے سپریم کورٹ جانا ہے۔
معاون وکیل نے ساڑھے 10 بجے تک کا وقت مانگا لیکن ایڈووکیٹ رضوان عباسی نہیں آئے۔ جج نے اسسٹنٹ سے کہا کہ وہ اپنے سینئر سے مشورہ کریں اور عدالت کو بتائیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔
مانیکا کے وکیل نے کیس کو دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست کر دی۔ فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ کیس منتقلی کی درخواست پہلے ہی مسترد کر دی گئی ہے۔
فاضل جج نے ان سے کیس کی منتقلی کی ٹھوس وجہ بتانے کو کہا۔ اس کے بعد کمرہ عدالت میں ہنگامہ برپا ہو گیا اور جج شاہ رخ ارجمند فیصلے کا اعلان کیے بغیر اپنے چیمبر میں چلے گئے۔