63 اے تشریح کیس: جسٹس نعیم اختر افغان بنچ میں شامل

پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اجلاس میں کمیٹی کے تیسرے ممبر اور سینئر ترین جج منصور علی شاہ نے آج بھی شرکت نہ کی

75

اسلام آباد: پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے معاملے پر نیا بنچ تشکیل دے دیا۔

سپریم کورٹ کی پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کمیٹی کے تیسرے ممبر اور سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج منصور علی شاہ نے آج بھی شرکت نہیں کی۔ جس کے بعد کہا گیا کہ کمیٹی کا 11 بجے دوبارہ اجلاس ہوگا۔

دوسری جانب ججز کمیٹی نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے معاملے پر نیا بنچ  تشکیل دے دیا ہے جس  میں جسٹس منیب اختر کی جگہ جسٹس نعیم اختر افغان کو  5 رکنی بنچ میں شامل کیا گیا ہے۔

63 اے کی تشریح کے معاملے پر قائم نیا بنچ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کی گیا ہے جس میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور مظہر عالم خان شامل ہیں۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اس موقع پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منصور علی شاہ کا نام تجویز کیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس منصورعلی شاہ نے  ترمیمی آرڈیننس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا  ترمیمی آرڈیننس آنے کے بعد بھی سینئرترین ججز کو کمیٹی اجلاس میں شرکت کرنی چاہیے تھی جب کہ  کوئی وجہ بتائے بغیر جسٹس منیب اختر کو کمیٹی سے ہٹادیا گیا۔

اس کے علاوہ سینئر جج جسٹس منیب اختر نے گزشتہ روز 63 اے تشریح کے کیس کے بینچ میں شامل ہونے سے معذرت کرلی تھی جس کی اطلاع انہوں نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو بذریعہ خط دی۔

جسٹس منیب نے اپنے خط کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی استدعا کی جسے چیف جسٹس نے مسترد کردیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.