نگران حکومت کو منتخب حکومت والے اختیارات دینے پر اعتراض ہے :پیپلز پارٹی

121

پیپلز پارٹی کے ترجمان فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہےکہ نگران حکومت کو منتخب حکومت والے اختیارات دینے پر پیپلز پارٹی کو اعتراض ہے۔

ایک بیان میں سینیٹر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی نگران حکومت پر اعتراض ہے اور پیپلز پارٹی کو نگران حکومت کو منتخب حکومت والے اختیارات دینے پر بھی اعتراض ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جو حکومت ابھی چل رہی ہے، نہیں پتا چل رہا کہ نگران ہے یا منتخب۔

پی پی ترجمان کا کہنا تھاکہ سیکشن 230 میں ترامیم پر پیپلز پارٹی نے تحفظات کا اظہار کیا تھا، ہم الیکشن کی طرف جارہے ہیں، نئے معاہدے منتخب حکومت کرے گی۔

فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ اسحاق ڈار کا نام نہ (ن) لیگ نے دیا نہ اس پر کوئی ڈسکشن ہوئی، نگران وزیر اعظم غیر جانب دار اور اتنا تگڑا ہونا چاہیے کہ اس بار آر ٹی ایس نہ بیٹھے ، نگران حکومت میں سیاسی لوگوں کو بھی نہیں ہونا چاہیے

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 منظور کرلیا گیا۔

سپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 پیش کیا گیا۔

ترمیم کے مطابق نگران حکومت کوئی نیا معاہدہ نہیں کرسکے گی، نگران حکومت کو دو فریقی اور کثیرفریقی جاری معاہدوں پر فیصلوں کا بھی اختیار نہیں ہوگا، نگران حکومت کو پہلے سے جاری منصوبوں پر اداروں سے بات کرنے کا اختیار ہوگا۔

ترمیم کے تحت نگران حکومت پہلے سے جاری پروگرام اور منصوبوں سے متعلق اختیار استعمال کر سکے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.