شیریں مزاری کا پولیس اہلکاروں پر بیٹی کو گھسیٹ کر ساتھ لیجانے کا الزام

105

سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار دیوار  پھلانگ کر گھر میں داخل ہوئے اور بیٹی ایمان مزاری کو گھسیٹ کر ساتھ لے گئے۔

اسلام آباد کچہری میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیریں مزاری کا کہنا تھا ایمان کی گرفتاری کے لیے اہلکار گیٹ پھلانگ کر گھر کے اندر آئے، گارڈ کو کیبن میں بند کیا، موبائل چھین لیا اور دروازہ توڑنے کی کوشش بھی کی۔

شیریں مزاری کا کہنا تھا گھر میں 20 کے قریب افراد گھسے تھے، 6 خواتین پولیس اہلکار گھر میں دیکھیں، پولیس اہلکار ایمان کو گھسیٹ کر باہر لے کر گئے، میرے کمرے میں بھی چیزوں کو ٹٹولا اور سرچ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکار ایمان کا موبائل اور لیپ ٹاپ لے کر چلے گئے، میرا ہاتھ کھینچا اور موبائل بھی لے کر چلے گئے، کیمرہ ڈیوائس لے کر چلے گئے۔

سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا گھر میں ایمان اور میں رہتی ہیں، نہ جانے کیوں دروازہ توڑ کر آتے ہیں، پولیس نے بغیر وارنٹ کے ایمار کو گرفتار کیا۔

دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے ایمان مزاری اور علی وزیر کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملزمان اسلام آباد پولیس کو تفتیش کے لیے مطلوب تھے۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ تمام کارروائی قانون کے مطابق عمل میں لائی جائے گی، اسلام آباد پولیس کے شعبہ تعلقات عامہ کی جاری خبر کو ہی درست تسلیم کیا جائے، کوئی پولیس اسٹیشن سے بیان دینے کا مجاز نہیں ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.