انڈیا: ملازم نے ’’عام بات‘‘ پر نوکری سے پہلے دن ہی استعفیٰ دیدیا

شریاس نے بتایا کہ یہ دیکھتے ہوئے کہ باس کسی صورت اضافی پیسے دینے پر رضامند نہیں ہونگے، میں نے اپنی نوکری کے پہلے دن ہی استعفیٰ دے دیا

84

نئی دہلی: کارپوریٹ کمپنیوں میں اوور ٹائم معمول کی بات ہے اور اوور ٹائم کرنے کے باوجود اضافی پیسے نہ ملنا بھی عام بات ہی ہے جس پر کوئی شخص خاموش ہوجاتا ہے تو کوئی اپنے حق کے لیے ضرور آواز اٹھاتا ہے۔

اسی قسم کا واقعہ حال ہی میں بھارت میں پیش آیا جس نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی۔

یہ واقعہ غیر معمولی اس طرح تھا کہ ایک پروڈکٹ ڈیزائنر نے نوکری جوائن کی جب کہ آفس کے پہلے دن ہی اس کے باس نے اسے اضافی گھنٹے رُک کر کام کرنے کا کہا اور جب اس نے اس اوور ٹائم کے پیسے پوچھے تو اسے کرارا جواب دیا گیا۔

شریاس نامی شخص نے اپنا تجربہ ریڈاٹ ویب سائٹ پر شیئر کیا اور بتایا کہ 7 اکتوبر کو میرے آفس کے پہلے دن کے اختتام پر باس نے مجھ سے اوور ٹائم کا کہا، یہاں تک کہ باس نے بغیر پیسوں کے آئندہ دنوں میں اوور ٹائم کرتے رہنے کا کہا جو مجھے سن کر کافی عجیب لگا۔

ملازم کے مطابق جب اس نے باس کو کچھ باؤنڈریز سیٹ کرنے کا کہا اور بتایا کہ اضافی کام بغیر اضافی تنخواہ کے نہیں کرسکے گا، تو اس کے باس ناراض ہوئے اور اسے کیریئر کے لیکچر دینے لگے، ساتھ ہی ذاتی حملے بھی شروع کردیے۔

شریاس نے بتایا کہ یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ کسی صورت اضافی پیسے دینے پر رضامند نہیں ہوں گے، میں نے اپنی نوکری کے پہلے دن ہی استعفیٰ دے دیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.