ایران پر حملہ یا مذاکرات؟ وائٹ ہاؤس میں اختلافات ، پینٹاگون کی صدر ٹرمپ کو بریفنگ

پینٹاگون کے منصوبہ سازوں نے صدر ٹرمپ کو سائبر آپریشن کے آپشنز اور نفسیاتی مہمات بھی پیش کی ہیں جن کا مقصد ایرانی کمانڈ کے ڈھانچے کو متاثر کرنا ہے۔

44

واشنگٹن: امریکا کی جانب سے ایران پر حملے سے متعلق دفاعی ادارے پینٹاگون نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ دی ہے، حملے کے حوالے سے وائٹ ہاؤس میں بھی اختلافات موجود ہیں، نائب صدر جے وینس سمیت دیگر حکام پہلے سفارت کاری کو موقع دینا چاہتے ہیں۔

امریکی میڈیا کےمطابق محکمہ دفاع کے دو عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران کےخلاف فضائی طاقت اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کسی بھی ممکنہ فوجی ردعمل کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق اس کے ساتھ ساتھ پینٹاگون کے منصوبہ سازوں نے صدرٹرمپ کو سائبر آپریشن کے آپشنز اور نفسیاتی مہمات بھی پیش کی ہیں جن کا مقصد ایرانی کمانڈ کے ڈھانچے، مواصلات اور سرکاری میڈیا کو متاثر کرنا ہے۔

امریکی حکام کا مزید کہنا تھا کہ، سائبر، نفسیاتی آپریشنز اور روایتی فوجی قوت مل کر ایک آپشن بھی ہوسکتے ہیں۔

دونوں امریکی عہدیداروں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ کا ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور سفارتی راستے کھلے ہیں۔

نائب صدر جے ڈی وینس کا موقف

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی زیرِ قیادت وائٹ ہاؤس کے سینئر معاونین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی سے قبل سفارتکاری کو موقع دیا جائے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ ایران میں جاری مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے ردِعمل میں ایران پر حملے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، تاہم نائب صدر اور بعض اعلیٰ حکام کا خیال ہے کہ فوجی اقدام سے پہلے سفارتی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

ایک امریکی اخبار نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا، اگرچہ اس وقت وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حق میں جھکاؤ رکھتے ہیں، لیکن ان کا مؤقف تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔

کچھ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ پہلے محدود حملے کا حکم دے سکتے ہیں، جس کے بعد ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکان پر غور کیا جا سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس ایران کی جانب سے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی مبینہ پیشکش کا بھی جائزہ لے رہا تھا، تاہم اسی دوران صدر ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری پر سنجیدگی سے غور کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.