مہنگی بجلی سے آئی پی پیز کی لوٹ مار، مزید تباہ کن حقائق سامنے آگئے

آئی پی پیز کے بیشتر مالکان مقامی شہری ہیں مگر دانستہ طور پہ کنٹریکٹ کچھ غیر ملکیوں کے نام پر کیے گئے

94

اسلام آباد: انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) نے ملکی معیشت میں تباہی مچا رکھی ہے، یہ آئی پی پیز کوئی بجلی پیدا کیے بغیر بھی کھربوں روپے وصول کر چکے ہیں، اس حوالے مزید ہوشربا حقائق سامنے آئے ہیں۔ 

ذرائع کے مطابق آئی پی پیز سے تباہ کن کنٹریکٹ کیے گئے جس کا خمیازہ ریاست پاکستان کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ آئی پی پیز نے بنگلہ دیش اور ویت نام کے مقابلے میں پاکستان میں اسی کیپیسٹی کے ونڈز پلانٹس چار گنا مہنگے ظاہر کرکے اوور انوائسنگ کی۔

پاکستان میں کوئلے کے بڑے ذخائر کے باوجودآئی پی پیز بجلی پیدا کرنے کے لیے امپورٹڈ فیول جیسا کہ ہائی سپیڈ ڈیزل اور درآمدی کوئلے پرانحصار کر رہی ہیں۔ ان وجوہات کی بنا پر مہنگی بجلی پیدا ہو رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی پی پیز نے جتنا امپورٹڈ فیول درآمد کیا اتنی بجلی پیدا نہیں کی اور حکومت سے اربوں روپے کی سبسڈی بھی حاصل کی اور پلانٹس کی دیکھ بھال کی مد میں حکومت پاکستان سے اربوں روپے وصول کیے جبکہ درحقیقت دیکھ بھال پہ اس کی چوتھائی رقم بھی خرچ نہیں ہوتی۔

آئی پی پیز حکومت کے اصرار کے باوجود فرانزک آڈٹ سے گریزاں ہیں۔ حیران کن  طور پر حکومت پاکستان نہ صرف آئی پی پیز کی انشورنس بھی خود برداشت کر رہی ہے بلکہ ابتدا میں آئی پی پیز لگانے کے اخراجات بھی حکومت نے برداشت کیے تھے۔

حکومت پاکستان نے ٹیکس ڈیوٹی اور انشورنس کی مد میں بھی آئی پی پی مالکان کو سہولیات مہیا کی۔ تمام اخراجات برداشت کرنے کے باوجود کنٹریکٹ کی مدت ختم ہونے پر پلانٹس حکومت پاکستان کی ملکیت نہیں ہوں گے۔ آئی پی پیز کے بیشتر مالکان مقامی شہری ہیں مگر دانستہ طور پہ کنٹریکٹ کچھ غیر ملکیوں کے نام پر کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق آئی پی پیز کو بھاری ادائیگیوں کی وجہ سے حکومت کو دیگراہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ آئی پی پیزاپنی لاگت سے سیکڑوں گنا منافع کما چکے ہیں اس لئے معاہدوں پر نظرثانی کی جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ  پاکستان میں بیشتر آئی پی پیز پہ چند بااثرخاندانوں کی اجارہ داری ہے۔ آئی پی پیز کی وجہ سے حکومت پاکستان کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ اب اطلاعات ہیں کہ کچھ آئی پی پیز رضا کارانہ طور پر حکومت سے مذاکرات اور قیمتیں کم کرنے پر تیار ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.