الیکشن سے ایک روز قبل بلوچستان کے دو اضلاع میں دھماکے، 25 افراد جاں بحق
عام انتخابات سے ایک روز قبل بلوچستان کے دو اضلاع میں دھماکے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 25 افراد جاں بحق ہوگئے۔
بلوچستان میں پہلا دھماکا ضلع پشین کے علاقے خانوزئی میں ہوا جس میں 15 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ دوسرا دھماکا قلعہ سیف اللہ میں جے یو آئی (ف) کے دفتر کے باہر ہوا جس میں 10 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
خانوزئی دھماکا
خانوزئی میں ہونے والے دھماکے کے بعد علاقے میں کھڑی موٹرسائیکلیں تباہ ہوگئیں اور دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جب کہ 15 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
خانوزئی اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے تصدیق کی کہ دھما کے کے بعد 15افراد کی لاشیں اور 30 سے زائد زخمیوں کو اسپتال لایا گیا ہے جن میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔
دھماکا عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار اور سابق وزیر اسفند یار کاکڑ کے دفتر کے باہر ہوا ہے تاہم وہ دفتر میں موجود نہیں تھے، دھما کے کے وقت علاقے میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے جب کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے دفاتر بھی اس علاقے میں موجود ہیں۔
قلعہ سیف اللہ دھماکا
بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں دوسرا دھماکا ہوا جہاں جے یو آئی (ف) کے دفتر کے باہر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
دھماکے کے بعد علاقے میں موجود موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کو آگ لگ گئی، دھما کے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جب کہ فائر بریگیڈ کا عملہ بھی موقع پر پہنچ گیا۔
نگران وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی کے مطابق قلعہ سیف اللہ میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں جے یو آئی کے امیدوار مولانا عبدالواسع محفوظ رہے۔
قلعہ سیف اللہ کے حلقے این اے 251 سے جے یو آئی (ف) کے امیدوار مولانا عبدالواسع امیدوار ہیں۔
الیکشن کمیشن کا نوٹس
علاوہ ازیں دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا ہےکہ ضلع پشین میں دھماکا صوبائی حلقے پی بی 4 میں سیاسی جماعت کے دفتر کے قریب ہوا جس کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری اور آئی جی بلوچستان سے فوری رپورٹ طلب کی گئی ہے۔