واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ قطرمیں حالیہ واقعات پر صدر ٹرمپ ناخوش ہیں، اسرائیلی حملے سے مذاکرات متاثر ہوسکتے ہیں، مگراس صورتحال سےاسرائیل سے تعلقات پراثر نہیں پڑے گا۔
امریکا کے وزیرخارجہ مارکو روبیو نےدعویٰ کیا ہے کہ قطرابھی اس نتیجے پرنہیں پہنچا ہے کہ وہ اسرائیلی حملے کے ردعمل کے طورپراتحادیوں سےکیا مطالبہ کرے گا۔
اس سوال پر کہ آیا وہ قطرمیں پیر کو ہونے والے سربراہ اجلاس سے متعلق وزیراعظم سے بات کریں گے؟ مارکو روبیو نے کہا کہ ان کی قطری وزیراعظم سے اس معاملے پرمختصربات ہوئی تھی تاہم انہیں یقین نہیں کہ قطرابھی اس نتیجے پرپہنچا ہے کہ وہ اتحادیوں سے کیا مطالبہ کریگا،امریکا یقینی طور پر قطرمیں ہونے والی میٹنگ میں شریک نہیں ہورہا تاہم قطرابھی اس نتیجے پرنہیں پہنچا کہ میٹنگ میں کیا پیغام سامنے لایا جائےگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ قطری وزیراعظم سے واشنگٹن میں ملاقات ہوئی تھی،قطر سے تعلقات ہیں جوکئی امور میں اہم ہیں، قطری حکومت کے ساتھ کئی امور پر اچھی شراکت داری ہے۔
امریکا سے اسرائیل روانگی کے موقع پر سوالوں کا جواب دیتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ ان کی توجہ اس بات پرمرکوز ہے کہ آگے کیسےبڑھنا ہے،حماس سےاب بھی نمٹنا ہے اور دعویٰ کیا کہ خطے میں کوئی بھی حماس کو وہاں نہیں دیکھنا چاہتا۔
اس سوال پر کہ کیا آپ اسرائیل سے کہیں گے کہ قطر پردوبارہ حملہ نہ کرے؟ مارکو روبیو نے کہا کہ صدرٹرمپ کے ردعمل ہی سے بات واضح ہے، صدر نے پسند نہیں کیا جس طرح یہ سب کچھ ہوا۔
امریکی وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ اس صورتحال سے اسرائیل سے تعلق پراثرنہیں پڑے گا،مارکو روبیو بولے کہ ایسی چیزیں ہوجاتی ہیں جن میں ہم سوفیصد متفق نہ ہوں اس سے امریکا اسرائیل تعلقات کی نوعیت نہیں بدلے گی، امریکا اسرائیل تعلقات بہت مضبوط ہیں اور رہیں گے، ہمیں اس پر اسرائیل سے بات کرنا ہوگی کہ اسکےاثرات کیا ہونگے۔
ایک سوال پر مارکو روبیو نے کہا کہ ہم اسرائیل پر اثر رکھتےہیں، اسے لیوریج نہیں کہہ سکتے، ہم اپنےاثراورصدر ٹرمپ کے خیالات کا اظہار کریں گے۔
قطر میں حماس قیادت پرحملے سے متعلق سوالوں کا جواب دیتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ وہ اسرائیل سے بات کرینگے کہ مقاصد کےحصول پراسکےاثرات کیا ہونگے۔ یرغمالیوں کی رہائی، حماس سے نجات اور جنگ کے خاتمے پر اسکے اثرات پربھی بات کی جائے گی۔
غزہ شہرپرحملے میں امریکی حمایت ہونے کا جواب دینے سے مارکو رویبو نے گریز کیا تاہم کہا کہ صدرٹرمپ چاہتے ہیں حماس کا خطرہ نہ رہے اوراگلےمرحلے کی طرف بڑھیں۔ اگلامرحلہ غزہ کی تعمیرنو،سیکیورٹی دینا اور یقینی بنانا ہے کہ حماس نہ لوٹ سکے۔ امریکی وزیرخارجہ نےکہا کہ صدرٹرمپ تمام یرغمالیوں کی رہائی اورتنازعہ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ 48 یرغمالیوں کو فوراً ایک ساتھ رہائی ملنی چاہیے، معاملہ ختم ہونے پر غزہ کی تعمیرنوہوگی،تب یہ دیکھنا ہوگا غزہ کی تعمیرنو کون کرے گا، رقم کون خرچ کرے گا اوراس عمل کا انچارج کون ہوگا؟
اس سوال پر کہ کیا اسرائیل کوغزہ شہر میں آپریشن ختم کرنا چاہیے؟ مارکو روبیو نے کہا کہ ہم یقینا اس معاملے پر بات نہیں کررہے، ہم صرف یہ جاننا چاہتےہیں کہ آگے کیا ہونا ہے۔
یہودی بستیوں کو اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے تسلیم کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے صحافی نے پوچھا کہ لوگ کہہ رہےہیں اب فلسیطنی ریاست قائم ہی نہیں ہوسکےگی۔
امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ اس کی ایک وجہ مختلف ممالک بشمول کینیڈا اور یورپی ممالک کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے پر اسرائیلی ردعمل ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں فلسطین پرہونے والی میٹنگز کا بھی اس ضمن میں حوالہ دیا اور کہا کہ امریکا نے دنیا کوخبردارکیا تھا کہ ایسے اقدامات کا نتیجہ کیا ہوگا یا کیا ہوسکتا ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اس معاملے پر بھی اسرائیلی قیادت سے بات ہوگی۔
اس سوال پر کہ کیا اسرائیلی اقدام سے فلسطینیوں سے کشیدگی بڑھ نہیں جائے گی؟ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا کہ یہ معاملہ ممالک کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنےسےشروع ہوا، ہم مجموعی طورپر اس پراسرائیلی قیادت سے بات کریں گے کہ اس کا اثر کیا ہوگا۔