تل ابیب: گزشتہ روز حزب اللہ کی جانب سے ساحلی شہر حیفا پر ہونے والے حملے کے بعد اسرائیلی فوج کی لبنان میں وحشیانہ بمباری ، خواتین اور بچوں سمیت 274 افراد شہید اور 750 سے زائد زخمی ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق لبنان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں اسرائیلی فوج نے اندھا دھند بم برسا دیے جس میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ غیر ملکی میڈیا کےمطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے صرف آدھے گھنٹے میں لبنان کے شہر نبطیہ پر 80 فضائی حملے کیے جس میں حزب اللہ کے اہداف پر حملوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
لبنان کی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں کم از کم 274 افراد شہید اور 750 سے زائد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں سے درجنوں کی حالت نازک ہے۔
شہید اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جب کہ متعدد گھر بھی تباہ ہوگئے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ آج صبح ہی اسرائیلی فوج نے لبنانی شہریوں کو ٹیکسٹ میسیجز بھیجے تھے جس میں انھیں حزب اللہ کے زیر استعمال گھروں اور عمارات سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
حملوں سے قبل سائرن بھی بجائے گئے اور پھر آسمان سے ہر جانب سے بم معصوم شہریوں پر گرنے لگے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے آج ہونے والا حملہ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ تھا جس میں اسرائیل نے لبنان کے شمالی اور جنوبی حصے پر ایک وقت میں حملہ کیا۔
ترجمان اسرائیلی فوج نے لبنانی عوام کو حزب اللہ کی پوسٹوں سے دور رہنےکا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’خطرات ختم کرنے‘ تک حملے جاری رہیں گے۔
دوسری جانب جنگ کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر چین نے اسرائیل اور لبنان میں رہنے والے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر دونوں ممالک چھوڑ کر باہر نکلیں۔