ایران اپنے جنگجو لبنان بھیجے گا، خامنہ ای محفوظ مقام پر منتقل

1981 کی طرح حکام لبنان میں لڑنے کی اجازت دیں گے: ایرانی وزیر حسن اختری

تہران: اسرائیل کی غزہ میں جاری کارروائیوں اور حزب اللہ سربراہ حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔

اسرائیل نے گزشتہ روز جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا جس میں لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ شہید ہوگئے ہیں اور حزب اللہ نے ان کی شہادت کی تصدیق کردی ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فوج کے لبنان پر فضائی حملوں میں حزب اللہ کے میزائل حملوں میں حسن نصراللہ کی بیٹی، حزب اللہ کے میزائل اور ڈرون یونٹ کے سربراہ بھی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

قبل ازیں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ حسن نصر اللہ بالکل ٹھیک ہیں لیکن اگر حسن نصر اللہ کو کچھ ہو بھی جاتا ہے تو حزب اللہ کے پاس متبادل قیادت موجود ہے۔

اب امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے لبنان میں لڑنے کیلئے عسکریت پسندوں کو بھیجنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔

ایران کے نائب وزیر برائے عالمی امور حسن اختری کا کہنا ہے کہ 1981 کی طرح حکام لبنان میں لڑنے کی اجازت دیں گے۔

اس کے علاوہ خبر ایجنسی کا بتانا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے، آیت اللہ خامنہ ای کو سخت حفاظتی اقدامات کے ساتھ محفوظ مقام پرمنتقل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 30 جون کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک عمارت پر حملہ کرکے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو شہید کر دیا تھا۔

Ali KhamenaiHassan NasarAllahHezbollahIranIrani FightersIsraelLebanonSafe House
Comments (0)
Add Comment