ایران نے حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی تحقیقات کے سلسلے میں متعدد انٹیلی جنس اور ملٹری افسران کو حراست میں لے لیا۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران نے اسماعیل ہنیہ کے قتل کی ایک وسیع تحقیقات شروع کر دی ہیں، اس کی شدت اس بات کی علامت ہے کہ سکیورٹی کی ناکامی کتنی نقصان دہ اور چونکا دینے والی تھی۔
اخبار کے مطابق ایران کے ملٹری ذرائع کا بتانا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کی تحقیات کے لیے انٹیلی جنس اور ملٹری افسران کے علاوہ اسماعیل ہنیہ کے گیسٹ ہاؤس کے ملازمین کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
تحقیقات سے واقف دو ایرانی اہلکاروں کا بتانا ہے کہ ایران نے دو درجن سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں سینئر انٹیلی جنس افسران، فوجی حکام اور عملے کے کارکن بھی شامل ہیں۔
امریکی اخبار کے مطابق اسماعیل ہنیہ پر تہران میں قاتلانہ حملہ ایران کی سکیورٹی کے لیے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایران کی پاسداران انقلاب کی خصوصی انٹیلی جنس ٹیم اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ یہ اعلیٰ سطح کی گرفتاریاں بدھ کی صبح ہونے والے ایک دھماکے میں اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد عمل میں آئیں، جنہوں نے قطر میں حماس کے سیاسی دفتر کی قیادت کی تھی اور وہ ایران کے نئے صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران کا دورہ کر رہے تھے اور ایران کے دارالحکومت تہران کے شمالی علاقے میں واقع گیسٹ ہاؤس میں قیام پذیر تھے۔
غیر ملکی میڈیا نے پہلے یہ اطلاع دی کہ اسماعیل ہنیہ کو میزائل حملے میں شہید کیا گیا ہے اور ان کی موجودگی کی اطلاع اسرائیل نے واٹس ایپ پر سپائی ویئر کے لیے ذریعے حاصل کی، پھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی یہ خبر سامنے آئی کہ اسماعیل ہنیہ کے کمرے میں پہلے سے بم نصب تھا اور پھر برطانوی میڈیا سے یہ خبر بھی سامنے آئی کہ اسرائیل نے ایرانی ایجنٹوں کے ذریعے اسماعیل ہنیہ کے کمرے میں بم نصب کروائے اور ایران کے پاس ان ایجنٹوں کی تصاویر بھی موجود ہیں۔
مسٹر ہنیہ کے قتل کے بعد اتنا شدید ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ایرانی قیادت کے لیے سکیورٹی کی کتنی تباہ کن ناکامی تھی، کیونکہ ملک کے نئے صدر کی تقریب حلف برداری کے چند گھنٹوں کے اندر اندر ملک کے دارالحکومت میں ایک سخت حفاظتی حصار میں یہ قتل ہوا۔