تل ابیب،لندن: صیہونی ریاست اسرائیل کو فضائی دفاعی نظام میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے ہتھیاروں کی صنعت سے تعلق رکھنے والے افراد اور دفاعی تجزیہ کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کو ایران کی طرف سے کسی نئے میزائل حملے سے اپنا دفاع کرنے کے لیے دفاعی نظام میں استعمال ہونے والے میزائلوں کی کمی کا سامنا ہے۔
امریکا اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام میں موجود خلا کو دور کرنے کیلئے اسے ٹرمینل ہائی-ایلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) دفاعی نظام فراہم کررہا ہے تاہم امریکی محکمہ دفاع کے ایک سابق اہلکار کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو درپیش انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی کا معاملہ تشویش ناک ہے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ اگر ایران کی جانب سے اسرائیل کے ممکنہ حملے کا جواب دیا جاتا ہے اور حزب اللہ بھی اس میں شامل ہوجاتی ہے تو اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام مشکلات کا شکار ہوجائے گا۔
اہلکار نے بتایا کہ امریکا کے پاس انٹرسیپٹر میزائلوں کا ذخیرہ لامحدود نہیں ہے اور امریکا یوکرین اور اسرائیل کو یکساں رفتار سے سپلائی جاری نہیں رکھ سکتا۔
اسرائیل ایرو سپیس انڈسٹریز اسرائیل کی ایک سرکاری کمپنی ہے جو بیلسٹک میزائلوں کو مار گرانے کے لیے استعمال ہونے والے ایرو انٹرسیپٹر میزائل بناتی ہے۔ اس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو بوز لیوی نے کہا کہ وہ میزائلوں کی پیداوار کو یقینی بنانے کے لیے 3 شفٹ چلا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی کچھ پروڈکشن لائنز تو 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کام کر رہی ہیں۔
فنانشل ٹائمز نے اسرائیلی وزارت دفاع کے ایک سابق ریسرچر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یکم اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے ایران کے میزائل حملے میں اسرائیل نے اس خدشے کے پیش نظر تمام انٹرسیپٹر استعمال نہیں کیے کہ کہیں ایران اگلا حملہ تل ابیب پر نہ کردے۔
اسرائیلی وزارت دفاع کے سابق ریسرچر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر صورتحال یہی رہی تو اسرائیل کو انٹرسیپٹرز کے استعمال کے حوالے سے محتاط ہونا پڑے گا۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران اسرائیل پرغزہ اور لبنان سے کم و بیش 20 ہزار راکٹ فائر کیے گئے۔