وہ پرتجسس فلم جو آپ بار بار دیکھنے پر مجبور ہو جائیں گے

104

ایک اچھی فلم وہ ہوتی ہے جس کی کہانی لوگوں کے ذہن سے محو نہ ہوسکے بلکہ کئی برس بعد بھی سوالات کے جواب ڈھونڈنے پر مجبور کردے۔

ایسی ہی ایک فلم 1995 میں ریلیز ہوئی تھی جو اب بھی پرتجسس فلموں کے مداحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

ڈائریکٹر ڈیوڈ فنچر کی فلم سیون ذہن کو الجھانے کے ساتھ ساتھ ناظرین کو سکرین سے نظریں ہٹانے نہیں دیتی۔

چوہے بلی کے کھیل پر مبنی یہ فلم دنیا کی چند بہترین فلموں میں سے ایک قرار دی جاتی ہے۔

اس فلم کی آئی ایم ڈی بی ریٹنگ 8.6 جبکہ روٹن ٹماٹوز ریٹنگ 83 فیصد ہے۔

کہانی

فلم ایک ایسے قاتل کی تلاش کے گرد گھومتی ہے جو مسلسل قتل کر رہا ہوتا ہے۔

مورگن فری مین اور براڈ پٹ نے فلم میں ایسے پولیس اہلکاروں کے کردار ادا کیے ہیں جو اس سیریل کِلر کو تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔

فلم میں ایک بے نام شہر کو دکھایا گیا ہے جس میں جرائم کی بھرمار ہوتی ہے۔

ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچ جانے والے سراغرساں ولیم سومرسٹ (مورگن فری مین) اور ان کے نئے پارٹنر ڈیوڈ ملز (براڈ پٹ) اس قاتل کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں جو عیسائی مذہب کے 7 مہلک گناہوں (Seven Deadly Sins) کو قتل کے جواز کے طور پر استعمال کر رہا ہوتا ہے۔

ن گناہوں میں غرور، نفسانی خواہش، حسد،غصہ، حرص، بسیار خوری اور کاہلی شامل ہیں اور قاتل اسی کے مطابق ہر قتل کرتا ہے۔

دونوں پولیس اہلکاروں کی تحقیقات تحقیقات بتدریج آگے بڑھتی ہے اور وہ قاتل کے قریب پہنچ جاتے ہیں، مگر اختتام پر ایسا غیر متوقع واقعہ ہوتا ہے جو ان کے پورے کیس کو گھما کر رکھ دیتا ہے۔

اس قاتل کا طریقہ کار کیا ہوتا ہے اور فلم کا اختتام کیسے ہوتا ہے، وہ آپ دیکھ کر ہی جانیں تو بہتر ہے۔

اس فلم کے چند حقائق بھی بہت زیادہ دلچسپ ہیں۔

مقتولین کی تلاش

فلم میں قتل ہونے والے افراد کا انتخاب ڈائریکٹر کے لیے درد سر بنا رہا تھا کیونکہ اس کے لیے چند معیار پر پورا اترنا ضروری تھا۔

مثال کے طور پر کاہلی والے قتل کا کردار ادا کرنے والے شخص کے مختصر قامت اور بہت زیادہ وقت لیٹے رہنے جیسی شرائط کو مدنظر رکھا گیا۔

اس کے لیے اداکار کو 14 گھنٹے تک میک اپ کرانا پڑا تاکہ مطلوبہ شکل نظر آسکے۔

آن سکرین تشدد نہیں دکھایا گیا

ویسے تو قاتل نے اپنے شکاروں کو کافی بہیمانہ انداز سے قتل کیا ہوتا ہے یا کم از کم یہی بتایا جاتا ہے مگر اسکرین پر کسی کو نہیں دکھایا گیا

بس تشدد کا احساس دلایا گیا اور باقی ناظرین کے تخیل پر چھوڑ دیا گیا، بس ایک جگہ تشدد دیکھنے میں آیا اور وہ بھی اختتام پر۔

براڈ پٹ کی انجری

فلم میں براڈ پٹ کے کردار کو زخمی دکھایا گیا تھا اور یہ حقیقی تھی کیونکہ وہ فلم کی شوٹنگ کے دوران زخمی ہوگئے تھے۔

مورگن فری مین کی حیران کن صلاحیت

ہ چاقو مورگن فری مین نے حقیقت میں مارا تھا / سکرین شاٹ

فلم میں مورگن فری مین نے اپنی ایک حیرت انگیز صلاحیت کا مظاہرہ کیا تھا اور وہ چاقو کھینچ کر مارنا تھی۔

فلم کے ایک سین میں انہوں نے ڈارٹ بورڈ پر چاقو سے نشانہ لگایا تھا، پروڈکشن ٹیم سین 2 الگ الگ شاٹس لے کر اسے ایڈٹ کرنا چاہتی تھی مگر اداکار نے خود ایسا کر دکھایا۔

مصنوعی بارش

فلم کی کہانی کافی المناک سمجھی جاسکتی ہے اور اسی طرح کا موسم بھی لگ بھگ ہر سین میں دیکھنے میں آیا یعنی بارش یا بارش جیسا موسم۔

اس مقصد کے لیے مصنوعی بارش برسانے والی مشینوں کی مدد لی گئی مگر اس کے نتیجے میں ڈائریکٹر طویل عرصے تک نزلہ زکام کے شکار رہے۔

قاتل کی نوٹ بکس حقیقی تھیں

نوٹ بکس تحریر کرنے میں 2 ماہ کا عرصہ لگا / سکرین شاٹ

دونوں مرکزی کردار قاتل کے گھر میں نوٹ بکس تلاش کرتے ہیں جس پر لکھی تحریریں اس کے کردار پر روشنی ڈالتی ہیں۔

فلم کو حقیقی بنانے کے لیے پروڈکشن ٹیم نے ایسی تحریروں کا استعمال کیا جو ان کے خیال میں قاتل کی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں۔

ان نوٹ بکس کو تحریر کرنے میں پروڈکشن ٹیم کو 2 ماہ کا عرصہ لگا اور اس پر 15 ہزار ڈالرز خرچ ہوئے۔

اختتام تبدیل کرنے پر فلم چھوڑنے کی دھمکی

فلم کا اختتام اس جگہ پر ہوتا ہے / سکرین شاٹ

فلم بنانے والے سٹوڈیو کو اس کا اختتام پسند نہیں آیا تھا اور عہدیداران اسے تبدیل کرنا چاہتے تھے، مگر براڈ پٹ کو وہ اختتام بہترین لگا۔

یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر اختتام کو تبدیل کیا گیا تو وہ فلم میں کام نہیں کریں گے۔

قاتل کا کردار ادا کرنے والے اداکار کو آخر تک چھپا کر رکھا گیا

فلم میں قاتل کا کردار ادا کرنے والے اداکار کا انکشاف اختتام پر ہوتا ہے مگر پروڈکشن ٹیم نے اسے مہینوں تک چھپائے رکھا۔

یہاں تک کہ فلم کے اوپننگ کریڈٹس میں اداکار کا نام بھی نہیں دیا گیا تھا۔

یہ خیال بھی سٹوڈیو کو پسند نہیں آیا تھا مگر ڈائریکٹر اور اداکار کے خیال میں یہ کہانی کے لیے ضروری ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.