جنگ بندی ختم ہوتے ہی اسرائیل کے غزہ پر وحشیانہ حملے، بچوں سمیت 32 فلسطینی شہید

13

اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جاری 7 روزہ جنگ بندی ختم ہوتے ہی اسرائیلی فوج نے غزہ پر وحشیانہ حملے شروع کردیے جس کے نتیجے میں اب تک 32 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کا آغاز 24 نومبر سے ہوا تھا جس میں دو مرتبہ توسیع ہوئی اور آج جمعہ کی صبح جنگ بندی کا وقت ختم ہوگیا جس میں کوئی توسیع نہیں کی گئی۔

عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں7 روز کی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد شمالی غزہ میں دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی جارہی ہیں۔

فلسطینی وزارت داخلہ کا کہنا ہےکہ اسرائیلی طیاروں نے غزہ پر فضائی حملے شروع کردیے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے خان یونس کےمشرقی علاقے پر بمباری کی

فلسطینی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے خان یونس کےمشرقی علاقے پر بمباری کی اور غزہ کےمغربی علاقے میں بھی بمباری کی جارہی ہے جب کہ غزہ پر اسرائیلی جاسوس طیارے نچلی پروازیں کررہے ہیں۔

فلسطینی میڈیا کا کہنا ہےکہ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کے علاقےجبالیہ میں گھرکو نشانہ بنایا ہے جب کہ غزہ کے مختلف علاقوں میں شدیدجھڑپیں جاری ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت نے اسرائیلی فضائیہ کی غزہ پربمباری سے کم ازکم 32  فلسطینی شہریوں کے شہید ہونے کی تصدیق کی ہے جس میں بچے بھی شامل ہیں۔

غزہ میں جنگ بندی کی بحالی کیلئے مذاکرات جاری ہیں: قطر

قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سےجاری بیان میں غزہ میں جنگ بندی میں توسیع سے متعلق کسی فیصلے پر نہ پہنچنے اور جنگ بندی کے فوری بعد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

قطری وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہےکہ جنگ بندی معاہدے کی بحالی کے لیے دونوں جانب سے مذاکرات جاری ہیں جب کہ قطر نے یہ بھی واضح کیا ہےکہ وہ اپنے ثالث کاروں کے ساتھ ایک بار پھر انسانیت کیلئے جنگ میں وقفے کے اقدامات کیلئے پرعزم ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.