شادی کے لئے عمر کا زیادہ فرق معاشرے کے لئے قابل اعتراض

202

سال 2019 سے ایک چارٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہالی وڈ اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو نے اپنی زندگی میں کتنی خواتین سے تعلق رکھا۔

سوشل میڈیا ایپ ریڈ اٹ پر ایک صارف نے اس چارٹ میں ایک نمایاں پہلو کی نشاندہی کی۔ انھوں نے دیکھا کہ ڈی کیپریو خود اس وقت 44 سال کے تھے مگر وہ 25 سال یا اس سے کم عمر کی خواتین کو ڈیٹ کرتے رہے۔ ان کے مطابق وہ ان خواتین کی 26ویں سالگرہ سے پہلے ان سے اپنا تعلق توڑ لیتے تھے۔

اس چارٹ پر مختلف آرا سامنے آئیں۔ بعض لوگوں نے ڈی کیپریو کو داد دی کہ وہ اب بھی نوجوان خواتین میں مقبول ہیں اور اپنے اندر ان کے لیے ایک کشش رکھتے ہیں۔ تاہم کچھ لوگوں نے ہالی وڈ اداکار پر تنقید کرتے ہوئے انھیں اپنی عمر کی خواتین ڈھونڈنے کا مشورہ دیا۔

تین سال بعد بھی یہ چارٹ گردش کر رہا ہے۔ مبصرین نے ڈی کیپریو کی ذاتی زندگی پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے اور وہ جانتے ہیں ان کی موجودہ پارٹنر 24 سالہ کمیلا مورون ہیں۔

ڈی کیپریو کی رومانوی زندگی پر ردعمل معاشرے میں اس ٹیبو یا ’ممنوع یا قابل اعتراض عمل‘ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو جوڑوں میں عمر کے فرق سے منسلک ہے۔ بعض لوگ شادی یا تعلق میں عمر کے فرق کو سراہتے ہیں جبکہ دوسروں کے لیے یہ قابل قبول ہی نہیں کہ کسی کا شریک حیات ان سے آدھی عمر کا ہو۔

ڈیمی مور اور ایشٹن کوچر کی بات کی جائے یا جارج اور امل کلونی کی، جب بات معروف شخصیات کی شادیوں میں عمر کے فرق کی ہو تو زبانیں ہرگز نہیں رکتیں۔ 2014 کے دوران امریکہ میں مخالف جنس کے رومانوی تعلقات میں عمر کے فرق کی اوسط 2.3 سال تھی۔ مگر کئی جوڑوں میں عمر کا فرق اس سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

مغربی ممالک میں قریب آٹھ فیصد جوڑوں کے درمیان 10 سال یا اس سے زیادہ عمر کا فرق ہوتا ہے۔ مگر مردوں کے مردوں سے تعلقات میں یہ 25 فیصد اور خواتین کے خواتین کے ساتھ تعلقات میں یہ 15 فیصد کیسز میں ہوتا ہے۔ کچھ کیسز میں یہ فرق مزید بڑھ جاتا ہے۔ ڈیٹا کے مطابق امریکہ میں قریب ایک فیصد مخالف جنس کے جوڑوں میں عمر کا فرق 28 سال یا اس سے زیادہ ہے۔

رومانوی تعلق میں عمر کے فرق سے جڑے ہمارے خیالات دراصل ہزاروں برسوں تک ہماری ارتقائی سوچ کا نتیجہ ہیں اور اس میں کئی نسلوں کے سماجی اور ثقافتی اصولوں نے اپنا اثر چھوڑا ہے۔

گذشتہ سو برسوں کے دوران معاشی تبدیلی اور صنفی برابری کے فروغ نے ہمارے لیے عمر کے فرق کے تصور کو بدل دیا ہے۔ سماجی انصاف کی حالیہ تحریکوں میں عمر کے فرق سے ہونے والی شادیوں میں طاقت کی مرکزیت پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔

ایسے جوڑے جن میں عمر کا فرق زیادہ ہو، ان پر اعتراض کیا جاتا ہے۔ بعض ماہرین سمجھتے ہیں کہ یہ تصورات بھی بدل سکتے ہیں۔ تاہم کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نوجوان نسل بہت زیادہ یا بہت کم عمر کے شریک حیات سے شادی کے خیال کو زیادہ سختی سے رد کرتی رہے گی۔

سوچ اور ارتقائی عمل

ایسے لوگ جنھیں ڈی کیپریو کے پارٹنر کا انتخاب بُرا لگتا ہے ان کے پاس اس کی کئی وجوہات ہیں۔ عمر کے فرق پر تنقید کرنا بہت عام سی بات ہے۔ دیگر ٹیبوز کی طرح ان کی بنیاد ہزاروں برسوں کا ارتقائی عمل ہے۔ اور اس میں سماجی اور ثقافتی پہلو بھی پائے جاتے ہیں۔

نفسیات کی ماہر اور لندن میں دی چیلسی سائیکالوجی کلینک کی شریک بانی ایلینا ٹورونی کہتی ہیں کہ ’کئی ثقافتوں میں یہ قابل قبول نہیں اگر آپ عمر میں اپنے سے بہت بڑے یا بہت چھوٹے شخص سے محبت کر بیٹھیں۔‘

’ارتقائی عمل کے نظریے سے یہ بات معنی رکھتی ہیں کہ ہم کس سے تعلق جوڑتے ہیں اور آیا اس کے بعد فیملی بنائی جاسکتی ہے۔ اس کا تعلق بیالوجی سے بھی ہے مگر یہ بھی سوچا جاتا ہے کہ کیا دونوں والدین اپنے بچے کی پرورش کے لیے زندہ رہیں گے۔‘

مردوں اور خواتین دونوں میں قریب 35 سال عمر کے بعد بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہوتی رہتی ہے۔ خواتین بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کافی تیزی سے کھو دیتی ہیں۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ہمیں ایسے لوگوں سے کشش محسوس کرنی چاہیے جو عمر میں ہمارے جیسے ہوں۔

ہم جنس پرست جوڑوں سے متعلق ہمارے پاس کم ڈیٹا ہے مگر اس کے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسے جوڑوں میں عمر کا فرق زیادہ ہونا معمولی بات ہے۔ شاید اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بیالوجی کے اعتبار سے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنا یہ طے کرتا ہے کہ ہم شریک حیات کی تلاش کس سوچ سے کرتے ہیں۔

بات صرف والدین کی پرورش تک محدود نہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی عمر کے شخص کے ساتھ تعلق قائم کیا جائے تو یہ طویل عرصے تک چلتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایسا اس لیے ہے کیونکہ جوڑے ایک ساتھ زندگی کی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اور ایسے میں ان کے درمیان اتفاق بڑھتا چلا جاتا ہے۔

گریس لورڈن لندن سکول آف اکنامکس میں بہیویورل سائنس (انسانی طرز عمل) کی پروفیسر ہیں اور وہ رشتے میں عمر کے فرق اور خوشی کے تناسب پر تحقیق کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’شادی کے ابتدائی 10 برسوں کے دوران زیادہ لوگ اس صورت میں شادی سے مطمئن ہوتے ہیں جب ان کا پارٹنر نوجوان ہو۔‘

’تاہم وقت کے ساتھ مختلف عمروں کے جوڑے شادی سے ناخوش ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کا تناسب ایک جیسی عمر کے جوڑوں میں کم ہوتا ہے۔ ایک ہی عمر کے جوڑوں میں طلاق کی شرح قدرے کم ہوتی ہے۔‘

تاہم ان اہم عوامل کے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ سماجی و معاشی حالات میں ارتقا کا عمل اس نظریے کو بدل بھی دیتا ہے۔ سنہ 1900 کے دوران جوڑوں میں عمر کے فرق کی اوسط سال 2000 کے مقابلے دگنی تھی۔ تاریخی اعتبار سے (خاص کر مڈل اور اپر کلاس میں) یہ امکان زیادہ ہوا کرتا تھا کہ آپ اپنے سے بہت بڑے یا بہت چھوٹے شخص سے شادی کریں۔

اس کی وجوہات بیالوجیکل ہونے کے ساتھ معاشی بھی ہیں۔ اگر ایک 50 سال کا مرد بچے پیدا کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنی ہم عمر خواتین میں کم دلچسپی لے گا جو کہ اس کی بہت کم صلاحیت رکھتی ہیں۔ پدر شاہی معاشرے میں مردوں کے پاس معاشی قوت ہوتی ہے اور ان کے پاس یہ راستہ دستیاب ہوتا ہے کہ وہ اپنے سے بہت کم عمر کی خاتون سے شادی کر سکیں۔

19ویں صدی اور 20ویں صدی کے اوائل میں اکثر خواتین کو کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ تو ان کی ترجیح ہوسکتی تھی کہ وہ ایسے مردوں سے شادی کریں جو ان کی زندگی میں مالی استحکام لاسکیں۔

اور مردوں کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ معاشی طور پر مستحکم ہو کر بعد میں شادی کر لیں۔ ایسا کرنے سے ان کی معاشرے میں زیادہ طاقت ہو گی کہ وہ نوجوان بیوی ڈھونڈ کر بچے پیدا کرنے کے امکان بڑھا سکیں۔

ہم دوسروں کو خوش کرنے کے لیے اپنی رائے بھی وہی بنا لیتے ہیں

خواتین کی معاشی قوت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور بڑی عمر کے شریک حیات کی کشش اب پہلے سے کم ہوئی ہے جس نے بڑی عمر کے مرد سے شادی کے کیسز کم کر دیے ہیں۔ اس طرح یہ موضوع مزید ٹیبو بن چکا ہے۔

معاشروں میں محبت اور تعلقات کو لے کر ترقی پسند سوچ بڑھی ہے مگر جہاں تک بات ایسے جوڑوں کی ہے جن میں ایک پارٹنر کی عمر کہیں زیادہ ہو ایسے میں اب بھی جملے کسے جاتے ہیں۔

ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہوسکتا ہے دونوں ایک ساتھ خوش ہوں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دونوں میں طاقت کا عدم توازن ہے اور یہ تعلق یکطرفہ ہے جس میں ایک شخص دوسرے کی دولت یا مقام حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ایسی اصطلاحات بھی موجود ہیں جو اس نظریے کو تقویت بخشتی ہیں جیسے ’شوگر ڈیڈی‘ اور ’گولڈ ڈگر‘۔

یا یہ سوچا جاتا ہے خاتون میں ’ڈیڈی ایشوز‘ ہیں یعنی ان کے اپنے والدین سے تعلقات کچھ اچھے نہیں تھے جس کے نتیجے میں ایسا ہوا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.