انتہاپسند مودی سرکار نے ایک اور تاریخی مسجد کی جگہ مندر بنانے کا فیصلہ کر لیا

33

نئی دہلی: بھارتی ریاست مہاراشٹر کی انتظامیہ نے ہنوتوا گروپس کے دباؤ میں آکر ایک تاریخی مسجد کو سِیل کر دیا جہاں انتہاپسند ہندو جماعت مندر بنانا چاہتی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت میں ہندوتوا گروپوں نے مہاراشتڑ کے قصبے ایرنڈول کی صدیوں پرانی مسجد کے بارے میں دعویٰ کیا کہ یہ مسجد ایک مندر کو ڈھا کر بنائی گئی تھی اس لیے یہاں دوبارہ مندر تعمیر کیا جائے گا-

جنونی انتہا پسند ہندو جتھوں کے دباؤ پر تاریخی مسجد کو سیل کردیا گیا جس پر مسجد کے ٹرسٹی نے اورنگ آباد ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کردیا جس میں مقامی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔

مقدمے میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ مسجد کو کھولنے اور وہاں عبادت کی اجازت دینے کا حکم جاری کریں۔ یہ بنیادی مذہبی آزادی کا کیس ہے۔

مسجد کی ٹرسٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے عدالت کو بتایا کہ مسجد ایک رجسٹرڈ وقف جائیداد ہے جس کو سِیل کرنے کا اختیار کلکٹر کے پاس نہیں ہوتا-

وکیل شاہد ندیم نے مزید استدلال کیا کہ وقف املاک سے متعلق معاملات کو وقف ٹریبونل کے ذریعہ حل کیا جانا چاہئے۔

مسجد ٹرسٹی کے وکیل نے مسجد کے وقف جائیداد ہونے سے متعلق ویڈیو اور دستاویزی ثبوت بھی عدالت میں جمع کرائے۔

دوسری جانب ہندوتوا گروپ جسے پانڈو ورا سنگھرش سمیتی کے نام سے جانا جاتا ہے نے کہا کہ یہ مسجد پانڈو ورا کے ڈھانچے کو گرا کر بنائی گئی تھی اس لیے یہ زمین متنازع ہے اور کیس کا فیصلہ ہونے تک اس مقام کو سِیل رکھا جائے۔

عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد آج سماعت ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ رواں برس مئی میں ہندوتوا تنظیم کے صدر پرمود ہسادا ڈنڈاوتے نے ضلع مجسٹریٹ کے پاس شکایت درج کرائی، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ مسجد کے ٹرسٹ نے ان کی زمین پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیا ہے۔

جس کے جواب میں ضلع کلکٹر امان متل نے تمام متعلقہ فریقوں بشمول عرضی گزار، مسجد کے ٹرسٹی، تحصیلدار (ریونیو آفیسر) اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے ایک نمائندے کو ان کے دلائل سننے کے لیے طلب کیا۔

تفصیلی بات چیت کے بعد، ضلع کلکٹر متل نے مسجد میں نماز پر پابندی کا حکم جاری کیا اور اس معاملے کی حساسیت کے پیش نظر فوجداری ضابطہ اخلاق (CrPc) کی دفعہ 144 کو نافذ کیا تھا۔

خیال رہے کہ مودی سرکار کے دور میں مذہبی آزادی پر قدغنیں ہیں اور بھارت میں اقلیتوں کے لیے زمین تنگ ہوگئی

Leave A Reply

Your email address will not be published.