سوشل میڈیا پر شہدا کی توہین آمیز مہم کے پیچھے پی ٹی آئی کی ٹیم ہے: وزیر اطلاعات

12

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ شہدا کی توہین اور تضحیک کسی صورت قابل قبول نہیں، ایسے افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا جس میں پاک فوج کے جوان اور افسران شہید ہوئے لیکن ایک سیاسی جماعت نے شہدا کی قربانیوں سے متعلق سوشل میڈیا پر توہین آمیز مہم چلائی جو قابل مذمت ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت پہلے بھی شہدا کےخلاف توہین آمیز رویہ اختیار کر چکی ہے، پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم ان اکاؤنٹس کے پیچھے ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہدا کے ساتھ ایسا رویہ ناقابل برداشت ہے، دہشت گردی کےخلاف جنگ میں پاک فوج، پولیس اور عوام نے قربانیاں دی ہیں، شہدا کے اہلخانہ کے ساتھ کھڑے ہیں، سوشل میڈیا مہم کے پیچھے لوگوں کی شناخت کی جا چکی ہے، اس طرح کی مہم چلانے والوں کو قانون کےکٹہرے میں لایا جائےگا۔ 

عطا تارڑ نے کہا شہدا کی قربانیوں کا مذاق اڑانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، سو مرتبہ سیاسی تنقید کریں، خدارا شہدا کے خلاف تو ایسا مت کریں، سرحد کے پارپاکستان مخالف لابی بھی اس گھناؤنی مہم میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔

وزیراعظم معیشت سے متعلق روزانہ میٹنگ کر رہے ہیں: وزیر اطلاعات

وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکس اصلاحات اور ایف بی آر کی تنظیم نو پر بھی کام کیاجا رہا ہے، کوئی دن نہیں گزرتا جب وزیراعظم معیشت سے متعلق کوئی میٹنگ نہ کرتےہوں، سیاسی استحکام کے نتیجے میں ہی معاشی استحکام آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم روزانہ کی بنیاد پر اقتصادی معاملات پر میٹنگ کر رہےہیں، ملکی معاشی صورتحال فوری اقدامات کی متقاضی ہے، خسارے میں جانے والے اداروں کی نجکاری کی جائے گی، قومی یکجہتی اور سلامتی کےلیے ہمیں اکٹھے ہونا چاہیے،کچھ ریڈ لائنز کو عبور نہیں کرنا چاہیے، تنقید برائے اصلاح کریں۔

عطا تارڑ نے کہا کہ ہم ملک کو ڈیفالٹ نہیں ہونے دیں گے، لوگوں کی زندگی کو  آسان بنانا ہمارا مشن ہے، آئی ایم ایف کی عمارت کے سامنے احتجاج کا کیا مطلب ہے، پاکستان آکر احتجاج کریں، ہمیں ملک کو ہم آ ہنگی کے ساتھ آگے لےکر چلنا چاہیے، ہمیں قومی مسائل پر اکٹھا ہونا چاہیے، میثاق معیشت کی ہماری دعوت قبول کی جاتی تو آج حالات مختلف ہوتے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.