چیئرمین واپڈا کا مہمند ڈیم پراجیکٹ کا دورہ، تمام اہم سائٹس پر تعمیراتی کام کا تفصیلی جائزہ لیا

527

چیئرمین واپڈا انجینئر لیفٹیننٹ جنرل سجاد غنی (ریٹائرڈ)نے آج مہمند ڈیم کی ڈائی ورشن سکیم سمیت تمام اہم سائٹس کا دورہ کیا۔ دریائے سوات کا رُخ موڑنے کے لئے مہمند ڈیم کی ڈائی ورشن سکیم آنے والے لو فلو سیزن (Low-flow Seasen)میں مکمل ہو گی۔

چیئرمین واپڈا نے تعمیراتی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیاجن میں سپل وے پر کنکریٹ ورک، اِن لٹ پورٹل (Inlet Portal) کی کھدائی اور پشتوں کی مضبوطی کے لئے جاری کام اور ڈائی ورشن ٹنل کی کنکریٹ لائننگ قابل ذکر ہے۔

چیئرمین واپڈا نے پراجیکٹ انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اُنہیں مقررہ ہدف کے مطابق لو فلو سیزن کے دوران ڈائی ورشن سکیم مکمل کرنے کے لئے اپنی کوششوں میں مزید تیزی لانا ہوگی۔ اُنہوں نے کنٹریکٹرکو ہدایت کی کہ وہ ہائی فلو سیزن میں ڈائی ورشن ٹنل سمیت دیگر اہم سائٹس کو محفوظ بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات عمل میں لائے تاکہ منصوبہ کی تعمیر کسی بھی ممکنہ سیلاب سے متاثر نہ ہو۔

اُنہوں نے کہا کہ مین ڈیم کی تعمیر کے لئے درکار Rock-fillمٹیریل کی دستیابی اور اسے ذخیرہ کرنے کی غرض سے کئے گئے اقدامات میں بھی تیزی لانے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے پراجیکٹ ٹیم کو ہدایت کی کہ پراجیکٹ کی تکمیل کے دورانیہ میں کمی لائی جائے۔

مہمند ڈیم ایک کثیر المقاصد منصوبہ ہے، جسے واپڈا خیبرپختونخواکے ضلع مہمند میں دریائے سوات پر تعمیر کر رہا ہے۔ زراعت کے لئے پانی کی فراہمی، سیلاب کے نقصانات سے بچاؤ، سستی اور ماحول دوست پن بجلی کی پیداوار اور پشاور شہر کو پینے کے پانی کی فراہمی اِس منصوبے کے مقاصد میں شامل ہیں۔

مہمند ڈیم کی تکمیل 2026-27 ء میں شیڈول ہے۔ ڈیم میں مجموعی طور پر 1.29 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا جس کی بدولت مہمند اور چارسدہ کے اضلاع میں 18ہزار 237 ایکڑ نئی اراضی زیر کاشت آئے گی۔ جبکہ ایک لاکھ 60ہزار ایکڑ زمین کو پانی کی اضافی فراہمی بھی ممکن ہو گی۔

مہمند ڈیم کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 800 میگاواٹ ہے اور نیشنل گرڈ کو ہر سال اوسطاً 2 ارب 86 کروڑ یونٹ کم لاگت پن بجلی فراہم کرے گا۔ ڈیم سے پشاور شہر کو روزانہ 300 ملین گیلن پینے کا پانی بھی فراہم کیا جائے گا۔ایک اندازے کے مطابق منصوبہ سے سالانہ 51ارب 60 کروڑ روپے کے فوائد حاصل ہوں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.