اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قائم مقام گورنر نے کہا ہے کہ پاکستانی کو رواں مالی سال کے لیے 33.5 ارب ڈالرز کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت پوری ہو چکی

337

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے قائم مقام گورنر ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کہا ہے کہ پاکستانی کو مالی سال 23-2022 کے لیے 33.5 ارب ڈالرز کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت پوری ہو چکی ہے جبکہ مالی صورت حال کے حوالے سے مارکیٹ کے غیر ضروری خدشات چند ہفتوں میں ختم ہو جائیں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق پاکستان کی گرتی معیشت کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا تھا کیونکہ پچھلے ہفتے امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں تقریباً 8 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر سے کم ہیں اور مہنگائی ایک دہائی کی بُلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے رائٹرز کو ای میل پر جواب میں بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری پروگرام کے سبب ہماری اگلے 12مہینوں کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت پوری ہوچکی ہے۔

گزشتہ ہفتے پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول کا معاہدہ طے پا گیا تھا، جس کے تحت پاکستان کو ایک ارب 17کروڑ ڈالر کی رقم جاری کی جائے گی۔

مرکزی بینک کے قائم مقام گورنر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ اسٹاف لیول معاہدے کا اگلا جائزہ اجلاس پاکستان کو کمزور ممالک کی فہرست سے الگ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا جبکہ زیادہ تر ممالک کو آئی ایم ایف کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے کے بورڈ سے معاہدے کی منظوری کے بعد ہی قسط جاری کی جائے گی، جس کا اگست میں امکان ہے جبکہ اس سے قبل پیشگی اقدامات کرنا ہوں گے۔

لیکن چند لوگ آئی ایم ایف کی فنڈنگ ​​کے باوجود پاکستان کی بیرونی مالیاتی ضروریات پورا ہونے کی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہیں، جن میں قرضوں کی ادائیگیاں بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے قرضوں کی صورت حال، جو مارکیٹوں کے لیے اہم نکتہ ہے، مقروض دیگر کمزور ممالک کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.