کراچی میں تعمیرات کے حوالے سے کاروبار کی بے انتہا گنجائش ہے، مرتضیٰ وہاب

218

 کراچی : ایڈمنسٹریٹر کراچی، مشیر قانون اور ترجمان حکومت سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی میں تعمیرات کے حوالے سے کاروبار کی بے انتہا گنجائش ہے، دنیا بھر میں معیاری اور پائیدار مصنوعات کی کھپت کے مواقع ہیں، پاکستانی مینوفیکچررزاپنی مصنوعات کی فروخت کے لئے دنیا کے دوسرے ممالک میں منڈیاں تلاش کریں تاکہ قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جاسکے-

یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز ایکسپو سینٹر کراچی میں انسٹیٹیوٹ آف آرکیٹکٹس پاکستان کے تحت تین روزہ انٹرنیشنل ایگزی بیشن اور کانفرنس برائے بلڈنگ پروڈکٹس اینڈسروسز (IAPEX-2022)کا افتتاح کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،

اس موقع پر صدر انسٹیٹیوٹ آف آرکیٹکٹس پاکستان سعد محمود خان، چیئرپرسن کراچی چیپٹر ماریہ انصاری، کنوینر IAPEX بسمہ عسکری، خازن عقیل کپاڈیہ اور دیگر بھی موجود تھے-ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ عمارات کی تعمیر کے لئے بلڈنگ میٹریلز انتہائی اہمیت کا حامل ہے،

اس قسم کی نمائش سے شہریوں کو تعمیراتی مقاصد کے لئے معیاری سامان کے انتخاب کے مواقع میسر آتے ہیں، خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستان اب معیاری سامان بنانے میں خود کفیل ہوتا جارہا ہے،کراچی کی رونقیں بحال ہورہی ہیں اور تجارتی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں جس سے لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں،

ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ اس قسم کی نمائشیں اوپن اسپیس پر ہونی چاہئیں جہاں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی رسائی ممکن ہو اور پورے شہر کو پتہ چلے کہ تعمیراتی کاموں میں کس قسم کا جدید میٹریل اور ٹیکنالوجی متعارف کرائی جا رہی ہے، باغ ابن قاسم، کلفٹن، برنس گارڈن، فریئر ہال اور کے ایم سی بلڈنگ تاریخی اہمیت کے حامل مقامات ہیں اگر یہاں اس حوالے سے کوئی پروگرام کیا جائے تو بلدیہ عظمیٰ کراچی ہرممکن تعاون کرے گی،

انہوں نے کہا کہ آج کل جس قسم کی تعمیرات ہو رہی ہیں لوگوں نے اپنے مکانات کو کنکریٹ میں بدل کر رکھ دیا ہے جبکہ پہلے زمانے میں روشن اور ہوا دار مکانات بنائے جاتے تھے تاکہ روشنی اور ہوا کا گزر ہوسکے اور گرمی کا کم سے کم احساس ہو، تعمیرات سے قبل موسمیاتی صورتحال کو پیش نظر رکھا جانا چاہئے،

پوری دنیا کی طرح کراچی بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا ہے لہٰذا ہمیں اس پہلو کو بھی اپنی تعمیرات میں اہمیت دینا ہوگی، کام کرنے کے لئے خواہشات کے ساتھ ساتھ قانونی تقاضوں پر عملدرآمد کی ضرورت ہوتی ہے جس طرح کے بھی قوانین کی ضرورت ہوگی حکومت سندھ مدد کرے گی، کراچی نے مختلف ادوار دیکھے ہیں جس میں برا وقت بھی شامل تھا اس کے باوجود کراچی میں شہری زندگی متحرک رہی اور لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوتا گیا، اس متحرک شہر میں تعمیراتی اور دیگر شعبوں میں بہت زیادہ کام کرنے کی گنجائش موجود ہے،

ایڈمنسٹریٹر کراچی نے نمائش میں لگائے گئے مختلف اسٹالز پر گئے اور تعمیراتی سامان کو دیکھا اور پسندیدگی کا اظہار کیا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انسٹیٹیوٹ آف آرکیٹکٹس پاکستان کے صدر سعد محمود خان نے کہا کہ ان کی تنظیم دنیا بھر میں آرکیٹکٹس کی نمائندگی کرتی ہے اس کا قیام 1957ء میں عمل میں آیا، اب تک اس انسٹیٹیوٹ کے تحت تعمیراتی ڈیزائن کے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد مقابلے کرائے جاچکے ہیں اور IAC کو کئی بین الاقوامی اداروں کی رکنیت حاصل ہے،

کراچی میں اس انسٹیٹیوٹ نے پہلا اسکول آف آرکیٹکچر قائم کیاجہاں اب پانچ سالہ ڈگری پروگرام جاری ہے، انہوں نے کہا کہ اس نمائش کا مقصد گزشتہ کئی سال سے یہ نمائش منعقد کی جا رہی ہے جس کا مقصد تعمیراتی شعبے کے ماہرین اور دیگر لوگوں کو اس شعبے میں آنے والی تبدیلیوں سے آگاہ کرنا اور جدید تکنیک سے روشناس کرانا ہے-

انسٹیٹیوٹ آف آرکیٹکٹس پاکستان کراچی چیپٹر کی چیئرپرسن ماریہ اسماعیل نے کہا کہ اس سال کی نمائش اس اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے کہ ہمیں کوویڈ۔19 سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، تین روزہ نمائش میں بڑے پیمانے پر جدید تعمیراتی میٹریل رکھا گیا ہے جس سے اس شعبے میں کام کرنے والوں کے لئے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، امید ہے کہ مستقبل میں یہ صنعت مزید ترقی کرے گی اور تعمیراتی مصنوعات اور خدمات کی کھپت میں اندرون ملک اور بیرون ملک مزید اضافہ ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.