بھارتی الیکشن: مودی کا بھاری اکثریت کا خواب چکنا چور

بی جے پی نے انتخابی نعرہ ’اب کی بار 400 پار‘ لگایا تھا تاہم اب 300 کا ہندسہ بھی عبور کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

80

نئی دہلی: بھارت کے ایوان زیریں لوک سبھا کے انتخابات میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے 24 جماعتی اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے بھاری اکثریت حاصل کرنے کا خواب چکنا چور ہوگیا، حکمران اتحاد کو حکومت سازی کیلئے سادہ ملنے کا قوی امکان ہے جبکہ مودی نے ملک کے عام انتخابات میں کامیابی کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ ووٹوں کی ابھی گنتی جاری ہے۔

لوک سبھا کے ساتویں اورآخری مرحلے کیلئے 8 ریاستوں کی 57 نشستوں پر یکم جون کو ووٹنگ ہوئی تھی اور اس کے ساتھ ہی انتخابات کا مرحلہ ختم ہوگیا تھا۔

لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کے بعد آج ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور بھارتی الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی نتائج کا اعلان کیا جا رہا ہے جس نے سب کو حیران کردیا۔

مودی کے حکمران اتحاد کیلئے 300 کا ہندسہ پارکرنا بھی مشکل

لوک سبھا کی 543 نشستوں کے نتائج سامنے آنے کے بعد بھارتی میڈیا اور سرویز ایجنسیز کے ایگزٹ پول غلط ثابت ہوگئے ہیں اور بی جے پی اتحاد این ڈی اے بھاری اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مودی کی سربراہی میں 24 جماعتی اتحاد این ڈی اے کو 294 نشستوں پر برتری حاصل ہے جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی 234 سیٹیں شامل ہیں۔

بی جے پی نے انتخابی نعرہ ’اب کی بار 400 پار‘ لگایا تھا تاہم اب دائیں بازو کی جماعتوں کو 300 کا ہندسہ بھی عبور کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

بھارتی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری سرکاری نتائج کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی 85 نشستیں جیت چکی اور 154 میں برتری حاصل ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کو حالیہ انتخابات میں 50 سے زائد نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑا اور 2019  کے انتخابات میں بی جے پی نے لوک سبھا کی 303 نشستیں جیتی تھیں۔

دوسری جانب کانگریس کی سربراہی میں 24 جماعتی اتحاد انڈیا 231 نشستوں پرآگے ہے۔ کانگریس اب تک 39 نشستوں پر کامیاب ہوچکی اور اسے 60 سیٹوں پر برتری حاصل ہے، سماج وادی پارٹی 38 اور آل انڈیا ترنمول کانگریس 29 نشستوں پر آگے ہے۔

دوسری طرف وزیراعظم نریندر مودی نے ملک کے عام انتخابات میں کامیابی کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

” مودی نے نئی دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر دفتر میں اپنے حامیوں اور پارٹی ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک شاندار دن ہے… نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) تیسری بار حکومت بنانے جا رہا ہے، ہم عوام کے شکر گزار ہیں،”

“یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی جیت ہے۔ یہ آئین سے ملک کی وفاداری کی جیت ہے، ہندوستان کے 1.4 بلین لوگوں کی جیت ہے۔”

ابتدائی انتخابی نتائج بتاتے ہیں کہ مودی کی بی جے پی کو حکومت بنانے کے لیے اتحادیوں پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان شراکت داروں میں این ڈی اے کی درجنوں جماعتیں شامل ہیں، جو کہ بی جے پی کی زیرقیادت ایک اتحاد ہے جو 2014 میں اپنے پہلے انتخاب کے بعد سے اقتدار میں ہے۔

اگرچہ حتمی نتائج ابھی باقی ہیں البتہ مودی کا اتحاد حکومت سازی کیلئے درکار 272 سیٹوں کی سادہ اکثریت حاصل کرنے کے راستے پر گامزن ہے، الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق، حکومت بنانے کے لیے ضروری کم از کم تعداد 272 نشستوں پر کامیابی ضروری ہے ۔

آئندہ چند گھنٹوں میں مکمل نتائج متوقع ہیں۔

بی جے پی کو متنازعہ رام مندر کی ریاست اتر پردیش (یو پی ) میں شکست

کانگریس اتحاد نے بی جے پی کے گڑھ سمجھے جانے والی ریاست اترپردیش (یو پی) میں اپ سیٹ کردیا اور 80 میں سے 44 نشستوں پر برتری حاصل کرلی جن میں 38 پر سماج وادی پارٹی اور 6 پر کانگریس آگے ہے جبکہ بی جے پی 32 سیٹوں پر آگے ہے۔

بی جے پی کو اس قصبے میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا جہاں مودی نے متنازعہ مندر کا افتتاح کیا تھا۔

فیض آباد کے حلقے میں ، جہاں وزیراعظم نریندر مودی نے جنوری میں متنازعہ رام مندر کا افتتاح کرکے اس سال کے عام انتخابات کے لیے غیر سرکاری طور پر اپنی مہم کا آغاز کیا تھا۔

فیض آباد میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے بجائے حزب اختلاف کی سماج وادی پارٹی سے تعلق رکھنے والے اودھیش پرساد نے جیت حاصل کی، اس حلقے میں حکمران اتحاد کے لیے شکست ایک بڑے جھٹکے سے کم نہیں کیونکہ عظیم ہندو مندر کی تعمیر انتخابی مہم کا ایک اہم آلہ تھا۔

رام مندر بابری مسجد کے مقام پر تعمیر کیا گیا تھا، جو 16ویں صدی کی ایک مسجد تھی جس کی 1992 میں دائیں بازو کے ہندو گروپوں نے بے حرمتی کی تھی، جس نے مہلک مذہبی تشدد کی لہر کو جنم دیا تھا جو دہائیوں میں نہیں دیکھا گیا تھا۔

رام مندر کی تعمیر بی جے پی کے لیے طویل عرصے سے ایک خواب رہا ہے، جس کی جڑیں ہندو قوم پرست سیاسی تنظیم، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ میں پیوست ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.