قصوراے ڈویژن پولیس نےقصور بار کے ممبر ایڈووکیٹ محمد اسلم کے اندھے قتل میں ملوث دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا

471

قصور: تھانہ اے ڈویژن پولیس نے انتہائی قلیل وقت میں قصور بار کے ممبر کے اندھے قتل میں ملوث دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا،زمین کے تنازعہ پر قتل کرنے کا اعتراف جرم،آلہ قتل برآمد،ڈی پی اوقصور طارق عزیز سندھو کی پولیس ٹیموں کو شاباش۔

تفصیلات کے مطابق کوٹ میر باز خاں قصور کے رہائشی محمد امجد نے مورخہ 30جنوری کو تھانہ اے ڈویژن میں مقدمہ درج کروایا کہ میں محکمہ پولیس میں ملازم ہوں اور بطور ASI ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہوں میرا بھائی محمد اسلم ایڈووکیٹ ڈسٹرکٹ بار قصور میں وکالت کرتا ہے بوقت5/- بجے شام کچہری دفتر سے گھر جانے کے لیے نکلے جب میرا بھائی محمد اسلم ایڈووکیٹ مین فیروز پور روڈ منڈی موڑ کے قریب پہنچا تو نامعلوم ملزمان بسواری کار برنگ سفید پیچھے سے آ گئے اور میرے بھائی کی موٹر سائیکل کے آگے کار کرکے اسے زبردستی روک لیاتمام ملزمان مسلح پسٹل تھے ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجہ میں میرا بھائی محمد اسلم ایڈووکیٹ جاں بحق ہو گیا نامعلوم ملزمان کو سامنے آنے پر ہم شناخت کر سکتے ہیں، جس پر تھانہ اے ڈویژن پولیس نے فوری نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی۔

ملزمان کی گرفتاری کیلئے ڈی پی اوقصور طارق عزیز سندھو کی خصوصی ہدایات پر ایس پی انویسٹی گیشن عبدالقیوم گوندل کی زیر نگرانی، ڈی ایس پی سٹی یعقوب اعوان، ایس ایچ او اے ڈویژن افتخار جوئیہ، ایس ایچ او بی ڈویژن وحید عارف پر مشتمل سپیشل ٹیمیں تشکیل دی،

پولیس ٹیم نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کا ر لاتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، سی ڈی آر اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان اعظم اور علی حسن کو ٹریس کرکے گرفتار کرلیاہے، دوران تفتیش ملزمان نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے ملزمان کے قبضہ سے آلہ قتل پسٹل بھی برآمد کرلیا گیا ہے، جس سے مزید تفتیش جاری ہے۔

دوران تفتیش ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ مقتول اسلم ایڈووکیٹ کیساتھ زمین کا تنازعہ چلا آرہا تھا، جس سے تنگ آکر اسلم ایڈووکیٹ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، وقوعہ کے روز اسلم ایڈووکیٹ کی کچہری سے نکلتے ہوئے ریکی اور منڈی موڑ کے قریب تعاقب کرکے فائرنگ کرکے قتل کرکے فرار ہو گئے۔ ڈی پی اوقصور طارق عزیز سندھو نے اچھی کارکردگی پر پولیس ٹیموں کو شاباش دی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.