چیئرمین واپڈا سجاد غنی کا دیامر بھاشا ڈیم، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا دورہ

14

لاہور : چیئرمین واپڈا انجینئر لیفٹیننٹ جنرل سجاد غنی (ریٹائرڈ) نے دیامر بھاشا ڈیم اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا دورہ کیا۔ اپنے دورے میں اُنہوں نے دونوں منصوبوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے منصوبوں پر تعمیراتی کام میں تیزی لائیں تاکہ قومی اہمیت کے حامل داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور دیا مربھاشا ڈیم کو ٹائم لائنز کے مطابق مکمل کیا جا سکے۔

داسو ہائیڈرو پراجیکٹ سے بجلی کی پیداوار 2026 میں جبکہ دیا مر بھاشا ڈیم کی تکمیل 2028میں شیڈول ہے۔ واپڈا داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر دریائے سندھ کا رُخ موڑنے کا اہم ہدف فروری 2023 میں جبکہ دیا مربھاشا ڈیم پر دسمبر 2023میں کامیابی کے ساتھ حاصل کر چکا ہے۔

  اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں چیئرمین واپڈا دیا مر بھاشا ڈیم پہنچے اور ڈیم کے دائیں اور بائیں کناروں، ڈائی ورشن کینال، گائیڈ وال، اپ سٹریم اور ڈاؤن سٹریم کو فر(عارضی) ڈیمز اور مستقل پل(Permanent Bridge)پر تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر دیا مر بھاشا ڈیم کمپنی، جنرل منیجر/پراجیکٹ ڈائریکٹر دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ، کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز بھی اِس موقع پر موجود تھے۔دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کی 13 اہم سائٹس پر تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مین ڈیم سے زیریں جانب زیر تعمیر پل اور اپروچ روڈ رواں سال جون میں مکمل ہوں گے۔

  دورے کے دوسرے مرحلے میں چیئرمین واپڈا نے داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا دورہ کیا۔ اپنے دور ے میں اُنہوں نے زیر زمین پاور ہاؤس اور ٹرانسفارمر ہال، مین ڈیم کے بائیں کنارے اور اپ سٹریم کوفر ڈیم پر تعمیراتی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا۔

جنرل منیجر/پراجیکٹ ڈائریکٹر داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کے ہمراہ چیئرمین کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ اِس وقت پراجیکٹ کی 13سائٹس پر تعمیراتی کام بیک وقت جاری ہے۔اِن سائٹس میں زیر زمین پاور ہاؤس،مرکزی ڈیم کے دائیں اور بائیں کناروں اور ٹرانسفارمر ہال کی کھدائی اور مضبوطی کا عمل قابلِ ذکر ہیں۔ متبادل شاہراہ ِ قراقرم کی تعمیر کے لئے دو پلوں اور پانچ سرنگوں کے علاوہ کھلی جگہوں پر بھی کھدائی کا کام جاری ہے۔

          دیا مر بھاشا اور داسو واپڈا کے زیر تعمیراہم منصوبوں میں شامل ہیں۔ دیا مر بھاشا ڈیم کی تکمیل پر8 اعشاریہ ایک ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا جس سے 12لاکھ 30 ہزار ایکڑ اراضی زیر کاشت آئے گی اور ساڑھے 4 ہزار میگاواٹ بجلی بھی پیدا ہوگی، جس سے نیشنل گرڈ کو سالانہ 18 ارب یونٹ کم لاگت اور ماحول دوست بجلی مہیا کی جائے گی۔ 4ہزار 3سو 20میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے حامل داسو ہائیڈروپاور پراجیکٹ کو دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ 2ہزار ایک سو 60 میگاواٹ کے زیر تعمیر پہلے مرحلے کی تکمیل پر نیشنل گرڈ کو 12 ارب یونٹ سستی بجلی فراہم ہوگی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.