گوجرانوالہ: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما عالیہ حمزہ کو گزشتہ سال 9 مئی کو ملک میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے سلسلے میں گرفتار کیے جانے کے بعد بالآخرایک سال سے زائد عرصے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کی رہنما کو 31 جولائی کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے 9 مئی کے مقدمے میں ضمانت منظور ہونے کے بعد گوجرانوالہ کی سینٹرل جیل سے رہا کر دیا تھا لیکن ان کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔
گوجرانوالہ کے ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے آج (بدھ) کو لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) کے حکم کے مطابق 50،000 روپے کے ضمانتی بانڈز جمع کرانے کے بعد عالیہ حمزہ کی رہائی کے احکامات جاری کیے ہیں۔
اس سے قبل آج لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پی ٹی آئی رہنما کو 29 اگست تک کسی بھی نئے کیس میں گرفتار کرنے سے روک دیا۔
ہائی کورٹ نے عالیہ حمزہ کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان (اے جی پی) سے اس کے شوہر کی جانب سے نئے مقدمات میں گرفتاری کو روکنے کے لیے پیش کی گئی رپورٹ بھی طلب کی تھی۔
سینٹرل جیل کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی جہاں سے عالیہ حمزہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ روانہ ہوئیں۔