پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے کاہنہ میں پی ٹی آئی کے جلسے کے لیے مقررہ وقت ختم ہونے پر پولیس نے سٹیج خالی کروانا شروع کر دیا ہے جبکہ جلسہ گاہ کی لائٹیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔
پی ٹی آئی آفیشل کے یوٹیوب اکاؤنٹ پر جاری لائیو سٹریمنگ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جلسہ گاہ کی تمام لائٹس بند ہو چکی ہیں۔
اس سے قبل پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں نے جلسے میں تقریر کرتے ہوئے سڑکیں بند کرنے اور کنٹینر لگائے جانے پر انتظامیہ اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
جلسہ گاہ میں ہونے والے اعلانات کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرعمر ایوب ابھی تک جلسہ گاہ نہیں پہنچے اور راستے میں ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر لاہور موسیٰ رضا کی ہدایت پر جلسے کا وقت ختم ہونے پر پولیس نے سٹیج خالی کرانا شروع کر دیا ہے۔
لائٹس اور ساؤنڈ سسٹم بھی بند کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق جلسے کا ٹائم چھ بجے تک تھا لہٰذا معاہدے کے مطابق اس کے بعد جلسہ نہیں ہوسکتا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کی تقریریں
جلسے میں تقریر کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہرخان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت آزاد عدلیہ پر کوئی قدغن قبول نہیں کرے گی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ’جلسے کے لیے این اوسی نہیں ملتا، امریکہ کا ویزا این او سی سے جلدی مل جاتا ہے، کسی ادارے کو ادارے سےنہیں لڑوانا، عوام کو عوام سے نہیں لڑوانا۔‘
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ’آئینی ترمیم کے ذریعے ایک عدالت قائم کی جا رہی ہے۔ ہمیں سڑکوں پر نکلنا ہے جبر قبول نہیں کیا جائے گا۔‘
لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’بانی پی ٹی آئی ڈٹے ہوئے ہیں وہ عوام کوآزادی دلوائیں گے۔ گذشتہ ہفتے شب خون مارنےکی کوشش کی گئی، ترمیم منظورنہیں کرا سکے تو آرڈیننس جاری کر دیا گیا۔‘
لاہور میں کوئی سڑک بند ہے نہ ہی بند کی جائے گی: پنجاب حکومت کا دعویٰ
پنجاب کی وزیر اطلاعات اور مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ آج لاہور کے مضافات میں ہونے والے پی ٹی آئی کے جلسے کے سلسلے میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت کے مطابق شہر کی کوئی سڑک کنٹینر لگا کر بند نہیں کی جائے گی۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’لاہور میں کوئی سڑک بند ہے نہ ہی بند کی جائے گی۔‘
عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ ’تاہم جلسے میں کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ جلسہ چھ بجے تک ختم کرنا اور جلسہ گاہ میں سکیورٹی کی ذمہ داری منتظمین کی ہو گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان تحریک انصاف نے وعدہ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور تحریری طور پر اور جلسے میں بھی معافی مانگیں گے۔‘
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی معافی سے متعلق یقین دہانی کے بعد ’ہم نے سوچ و بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ علی امین گنڈاپور آج جلسے میں مصروف ہوں گے اس لیے تحریری طور پر معافی نہ بھجوائیں بلکہ جلسے میں تقریر کے دوران ہی معافی مانگ لیں۔ اسے ہم کافی سمجھیں گے۔‘
مسلم لیگ ن کی رہنما کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو لاہور کے رنگ روڈ پر مویشی منڈی میں جلسے کی اجازت ملی ہے، جسے پی ٹی آئی سبزی منڈی کہہ رہی ہے۔ ’اس سے فرق نہیں پڑتا منڈی، منڈی ہوتی ہے۔‘
پی ٹی آئی کو لاہور کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے شہر کے مضافات میں جلسے کی مشروط اجازت ملنے کے بعد خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف حصوں سے پی ٹی آئی کارکنوں کے قافلوں کی روانگی کا سلسلہ گذشتہ رات شروع ہو گیا تھا، جو ہفتے کی صبح بھی جاری رہا۔
پی ٹی آئی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ہفتے کو علی الصبح لاہور پہنچی، جہاں مختلف سڑکوں اور شاہراہوں پر رکاوٹیں بھی کھڑی کی گئی ہیں۔
سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر قافلوں اور ذاتی حیثیت میں لوگوں کی ملک کے مختلف حصوں سے روانگی اور لاہور پہنچنے کی ویڈیوز اپ لوڈ کی گئی ہیں۔
کئی ایک ویڈیوز میں لاہور کے بعض داخلی اور دوسرے راستوں، خصوصاً جلسہ گاہ کی طرف جانے والی سڑکوں پر رکاوٹیں دیکھی جا سکتی ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام میں پنجاب حکومت اور لاہور کی انتظامیہ سے جلسے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی نہ کرنے کی درخواست کی۔
پشاور سے پی ٹی آئی کے جلسے میں شرکت کے لیے روانہ ہونے والوں میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے لاہور انتظامیہ سے مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کی اجازت طلب کی تھی، جسے مسترد کر دیا گیا۔
انتظامیہ نے عدالت کے حکم پر پی ٹی آئی کو مینار پاکستان سے 28 کلومیٹر جنوب میں کاہنہ میں جلسہ کرنے کا این او سی جاری کیا۔
پی ٹی آئی نے آج کے جلسے کے اعلان کے ساتھ ہی مینار پاکستان پر تیاریاں شروع کر دی تھیں تاہم جلسے کا مقام تبدیل ہونے کے بعد جمعہ کی رات توجہ کاہنہ کی طرف مبذول ہوئی، جہاں تقریباً ساری رات سٹیج بنانے اور دوسری تیاریوں کے سلسلے میں ہل چل دیکھنے میں آئی۔
کاہنہ میں جلسے کے مقام پر جاری تیاریوں کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کی جا رہی ہیں۔
جلسے کی شرائط
گذشتہ رات لاہور انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو جاری کردہ اجازت نامے میں یہ شرائط رکھی تھیں۔
جلسہ دوپہر تین بجے شروع ہو گا اور شام چھ بجے تک ختم کر دیا جائے گا، جب کہ سٹیج سکیورٹی و دیگر انتظامات منتظمین کی ذمہ داری ہوں گے۔
ایک دوسری شرط میں آٹھ ستمبر کے اسلام آباد کے جلسے میں ’زہر فشانی‘ پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے عوامی معافی کا مطالبہ کیا گیا ہے، جب کہ اسی جلسے میں نفرت پر مبنی تقاریر کے ملزمان کو سٹیج پر نہ لانے کی شرط بھی رکھی گئی ہے اور ریاست مخالف نعروں پر بھی پابندی کا ذکر موجود ہے۔
اجازت نامے کے مطابق جلسے میں کوئی پتلا یا جھنڈا نہیں جلایا جائے گا اور شہر کے باہر سے آنے والے جتھے شہر کا ماحول خراب نہیں کریں گے، جب کہ جلسے میں کوئی اشتہاری ملزم شریک نہیں ہوں گے۔
ایک دوسری شرط کے مطابق کوئی وال چاکنگ نہیں کی جائے گی اور قابل اعتراض نعرے بازی نہیں ہوگی، جب کہ کسی شہری کو جلسے میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔