اسلام آباد: انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد علی ناصر رضوی نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت پر دھاوا بولنے والوں کے خلاف 10 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جبکہ 878 افراد گرفتار ہیں۔
اتوار کو پریس کانفرنس میں آئی جی کا کہنا تھا کہ ہم نے صبر سے کام لیا لیکن مظاہرین نے تشدد کا راستہ اپنایا، مظاہرین نے پولیس پر زہریلی گیس فائر کی، احتجاج کے دوران 120 افغان باشندوں سمیت 878 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد پر چڑھائی کی قیادت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کر رہے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران 154 ملین روپے کے سیف سٹی کیمروں کا نقصان کیا گیا۔
ہمارے جوانوں کی 31 موٹر سائیکلوں کا نقصان ہوا، مظاہرین نے تین نجی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا، مظاہرین نے کے پی پولیس کا سامان استعمال کیا۔
https://urdu.lahoremirror.com/case-against-pti-leaders-and-workers-including-imran-khan-for-sedition-and-terrorism-in-lahore/
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے تشدد سے پولیس اہلکار حمید شاہ کی جان گئی، ’آج کا دن اسلام آباد پولیس کے لیے بہت غمگین دن ہے۔
انہوں نے کہا کہ واقعہ کی سخت سے سخت ایف آئی آر درج کی جائے گی اور عبدالحمید کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
علی ناصر رضوی کا مزید کہنا تھا کہ مظاہرین نے سرکاری شیل استعمال کیے، میٹرو بس کا جنگلہ توڑ دیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین سے سرکاری اسلحہ ملا اور مظاہرین میں کے پی پولیس کے حاضر سروس اہلکار بھی تھے۔