فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا اگلہ مرحلہ، فیض حمید کو باضابطہ طور پرچارج شیٹ کردیا گیا

انتشار، بدامنی اور پرتشدد واقعات میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید(ر) کے ملوث ہونے کی علیحدہ تفتیش جاری ہے:ترجمان پاک فوج

راولپنڈی: آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمیدکو باضابطہ طور پر چارج شیٹ کردیا گیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی اور فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے اگلے مرحلے میں فیض حمیدکوباضابطہ طور پر چارج شیٹ کردیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ان چارجز میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے ریاست کے تحفظ اور مفاد کو نقصان پہنچانا، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور افراد کو ناجائز نقصان پہنچانا شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے عمل کے دوران ملک میں انتشار اور بدامنی سے متعلق پرتشدد واقعات میں فیض حمیدکے ملوث ہونے سے متعلق علیحدہ تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ان پرتشدد اور بدامنی کے متعدد واقعات میں 9 مئی سے جڑے واقعات بھی شامل تفتیش ہیں، ان متعدد پرتشدد واقعات میں مذموم سیاسی عناصر کی ایما اور ملی بھگت بھی شامل تفتیش ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے عمل کے دوران لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو قانون کے مطابق تمام قانونی حقوق فراہم کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاک فوج نے انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو 12 اگست کو فوجی تحویل میں لیا تھا۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف چارج شیٹ کا مطلب ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف مکمل ثبوت موجود ہیں۔ متعدد الزامات میں سب سے پہلا اور اہم الزام لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کی سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ریٹائرڈ افسر 9 مئی کے واقعات اور اس سے پہلے کے دیگر واقعات جیسے مئی 2022 اور نومبر 2022 میں آرمی چیف کی تعیناتی کے وقت ہونے والے احتجاج میں ملوث تھے۔

ذرائع کے مطابق الزامات کی چارج شیٹ کے بعد باضابطہ کورٹ مارشل کی کارروائی کا آغاز ہوگیا ہے اور اس سلسلے میں سزا کی صورت میں  پنشن اور سروس ضبط ہو سکتی ہے جب کہ سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر 14 سال سزا ہو سکتی ہے اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر جرمانہ و سزا بھی ہو سکتی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا نام کب منظر عام پر آیا؟

فیض آباد دھرنے سے متعلق فیض حمید کا نام منظر عام پر آیا جب ان کے حوالے سے حکومت اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے درمیان معاہدہ کرانےکی بات سامنے آئی۔

27 نومبر2017 کو حکومت پاکستان اور تحریک لبیک کے درمیان معاہدےکے آخر میں ’بوساطت میجر جنرل فیض حمید‘ لکھا گیا تھا۔

2018 کے انتخابات کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے 2019 میں فیض حمید کو سربراہ آئی ایس آئی مقرر کیا اور وہ 2 سال سے زائد عرصے کے لیے اس عہدے پر رہے۔

بعدازاں تحریک لبیک سے معاہدے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے فیصلے میں ایسے افسران کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا، فیض حمید پر سیاسی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے اپنےحلف کی پاسداری نہ کرنےکا الزام بھی لگا، اسی دور میں سیاسی انتقام،گرفتاریوں، وفاداریوں کی تبدیلی کے الزامات بھی سامنے آئے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نےبھی تقریروں میں فیض حمید پر سنگین نوعیت کے الزامات عائدکیے، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے دور میں سیاسی مداخلت کے بھی الزامات سامنے آئے۔

پی ٹی آئی دورِ حکومت میں فیض حمید پر پی ٹی آئی کے مخالفین کو جیلوں میں ڈالنےکے الزامات لگے، پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں قانون سازی کے لیے اسمبلی اجلاسوں میں اراکین کی حاضری پوری کرانےکابھی الزام لگا ساتھ ہی ان پر بجٹ منظور کرانے میں بھی ملوث رہنےکا الزام لگا۔

2017 اور2018 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے بھی فیض حمید پر مداخلت کے الزامات لگائے۔

AfghanistanCourt MartialElectionFormer DG ISIGeneral Faiz HameedImran KhanISIISPRpakistan ArmyPTI
Comments (0)
Add Comment