حکومت سے مذاکرات: پی ٹی آئی نے 2 مطالبات سامنے رکھ دیے

ابتدائی مطالبات قیدیوں کی رہائی اور ڈی چوک فائرنگ پر جوڈیشل کمیشن کے ہیں،مکمل مطالبات 2 جنوری کو پیش کرینگے،اسد قیصر

اسلام آباد: حکومت سے مذاکرات میں پی ٹی آئی نے عمران خان سمیت تمام قیدیوں کی رہائی، 9 مئی اور 26 نومبر ڈی چوک فائرنگ پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے ابتدائی مطالبات پیش کردیے۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا پہلا راؤنڈ پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا  جس کی سربراہی سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کی، مذاکرات میں حکومتی اتحاد کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، عرفان صدیقی ، رانا ثناءاللہ، نوید قمر ، راجا پرویز اشرف اور فاروق ستار شامل ہوئے۔

اس کے علاوہ اپوزیشن کی طرف سے اسد قیصر، حامد رضا، علامہ ناصر عباس مذاکراتی کمیٹی کا حصہ تھے۔

ایاز صادق کا کمیٹی سے خطاب

قبل ازیں سپیکر ایاز صادق نے مذاکراتی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ مسائل کو مذاکرات سے حل کرنے کے حوالے سے وزیراعظم کا اقدام خوش آئند ہے، نیک نیتی سے حکومت اور اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے، بات چیت اور مکالمے سے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے، مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے کے لیے مذاکراتی کمیٹی کو کھلے دل سے آگے بڑھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سپیکر سیکرٹریٹ کمیٹی کی ہر طرح  کی معاونت کرے گا، حکومت اوراپوزیشن کا کام ہے انہیں کرنے دیں، میری کوشش ہوگی کہ نیوٹرل رہ کر سہولت فراہم کروں اور باقی جو ان کی مرضی ہوگی ، پاکستان کی خاطر کی سارے ڈائیلاگ کی بات ہورہی ہے ،کوشش ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں اورملک میں سیاسی استحکام آئے۔

ایاز صادق کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی دینا میرا کام نہیں ہے، مذاکرات کی کامیابی حکومتی اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی پر منحصر ہے، مذاکرات کا عمل نیک شگون ہے اور یہ عمل جمہوریت کا حسن ہے۔

ہم ایک چارٹر آف ڈیمانڈ 2جنوری کو پیش کریں گے: اسد قیصر

حکومت سے مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ میٹنگ میں ہم نے اپنا موقف بھرپور طریقے سے سامنے رکھا، ہم نے بشمول عمران خان تمام قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا، ہم نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے بھی مطالبہ سامنے رکھا، ہم ایک چارٹر آف ڈیمانڈ 2جنوری کو پیش کریں گے۔

انہوں ںے کہا کہ ہم نے عمران خان سے رابطہ استوار کروانے کا بھی مطالبہ کیا، حکومت نے عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ تسلیم کیا، جیلوں میں قید ورکرز کے حوالے سے بھی ہم نے بات کی، آج ابتدائی بات چیت ہوئی باقاعدہ مذاکرات کا آغاز 2 جنوری کو ہوگا۔

صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ ہم کوئی ایسا مطالبہ نہیں کر رہے جو ماورائے آئین ہو، ہم کوئی ریلیف نہیں مانگ رہے بلکہ فیکٹ اینڈ فائنڈنگ چاہتے ہیں، ہم 9 مئی اور 26 نومبر کی فیکٹ فائنڈنگ چاہتے ہیں،ہم سیاسی قیدیوں کی رہائی کی بات کرتے ہیں۔

سیاسی قیدیوں کی رہائی عمران خان کےبغیر ناقابل قبول ہے: حامد رضا

انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس تمام اختیارات ہیں وہ ہمارے مطالبات پورے کرے، ہم نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کمیٹی کے سامنے رکھا ہے، سیاسی قیدیوں کی رہائی بانی پی ٹی آئی کے بغیر نا قابل قبول ہے۔

صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ کے تمام مطالبات مان لیے جائیں گے؟؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ابھی تو آغاز ہوا ہے اختتام کا کیسے بتادوں؟

Charter Of DemandDialoguesGovernmentImran KhanMQMPMLnPPPPTI
Comments (0)
Add Comment