لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے پنجاب کے مختلف علاقوں میں جاری مظاہروں کے درمیان، مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے کہا کہ وہ عاجزی سیکھیں اور بلند و بانگ دعوے کرنے سے گریز کریں اور اللہ سے معافی مانگیں، میرے گلے میں رسی ڈال کر وزیراعظم ہاؤس سے باہر نکالنے کا کہنے والا آج خود جیل میں ہے۔
“اپنا گھر اپنی چھت” سکیم سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تین بار کے وزیر اعظم نے جیل میں بند پی ٹی آئی کے بانی سے کہا ، “آپ جو بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں چار ماہ احتجاج کیا میں وزیراعظم ہاؤس میں تھا احتجاج میں کہا گیا میں نواز شریف کے گلے میں رسی ڈال کر اسے وزیراعظم ہاؤس سے باہر نکالوں گا،یہ الفاظ اس شخص کے ہیں جو جیل میں ہے، اسی طرح آئی جی، چیف سیکرٹری اور دیگر کو دھمکی دی گئی کہ چھوڑوں گا نہیں اور جیلوں میں ڈالوں گا۔
نواز شریف نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ اتنے بڑے بڑے بول نہیں بولا کرو عاجزی سیکھو عاجزی اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو، جیسا کروگے ویسا بھرو گے۔ انہوں نے انگریزی مثال دی کہ جو کرو گے سامنے آئے گا۔
پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر حکمراں پارٹی کے صدر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت صوبے کی ترقی میں دلچسپی نہیں رکھتی۔
مسلم لیگ ن کے سربراہ نے پی ٹی آئی کے مظاہرین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ آنسو گیس کے گولے لے کر پنجاب آتے ہیں ‘‘ ۔
نواز شریف نے اس موقع پر یہ بھی پوچھا کہ پی ٹی آئی نے کون سے بڑے وعدے پورے کیے؟ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کارکردگی صفر ہے اور جب بھی انہیں موقع ملتا ہے احتجاج کرتے ہیں۔
میرے خیال میں ایسے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جانا چاہیے: سربراہ مسلم لیگ ن
سابق وزیر اعظم نے اپنے حامیوں اور ووٹروں سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 2017 میں ان کی اقتدار سے بے دخلی کے خلاف کبھی آواز نہیں اٹھائی، آپ نے کبھی نہیں پوچھا کہ اتنی اچھی چیزیں لائی جا رہی ہیں تو نواز شریف کو کیوں ہٹایا جا رہا ہے، قابل فخر اور باوقار قومیں ہمیشہ کسی بھی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں۔
پاناما سکینڈل کو یاد کرتے ہوئے ،جس کی وجہ سے سابق وزیر اعظم کو معزول کیا گیا تھا، نواز شریف نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس وقت کے سپریم کورٹ کے ججوں نے انہیں محض ان کے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کی وجہ سے عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔
قرضہ سکیم کے حوالے سےانہوں ںے کہا کہ کتنی عمدہ بات ہے کہ قرض بھی دیا جا رہا ہے اور ایک پیسہ بھی سود نہیں لیا جا رہا اگر عوام کے نمائندوں کو اس ملک میں کام کرنے دیا جاتا تو آج ملک میں کوئی شخص بھی بے گھر نہ ہوتا میرے پہلے دور حکومت میں ہم نے ایسی بہت سی سکیمیں شروع کیں لیکن ہمیں فارغ کر دیا گیا اور دوسرے دور میں بھی ایسا ہی ہوا، ہم دو قدم آگے چلتے تو ہمیں آٹھ قدم پیچھے دھکیل دیا جاتا۔
انہوں نے کہا مسلم لیگ (ن) جتنا کام کس حکومت نے کیا ہے؟ موٹر وے کس نے بنائیں؟ لوڈشیڈنگ کس نے ختم کی؟ دہشت گردی مسلم لیگ ن نے ختم کی، ملک کو ایٹمی ملک بنایا، اورنج لائن مسلم لیگ ن نے بنائی اس کے جواب میں ایک ارب درخت اور ساڑھے 3 سو ڈیمز بنانے کا دعویٰ کرنے والے بتائیں یہ منصوبے کہاں گئے؟
انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور شہباز شریف بجلی سستا کرنے کی بہت کوشش کر رہے ہیں۔ نواز شریف نے عندیہ دیا کہ بجلی کے نرخ بہت بڑھ گئے ہیں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے وفاقی حکومت سولر پینل کی طرف جائے گی تاکہ زیادہ نرخوں کا جھگڑا ہی ختم ہوجائے مگر اس میں وقت لگے گا کیوں کہ اس منصوبے کے لیے خطیر رقم درکار ہے، ہم آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہتے ہیں لیکن مخالفین آ کر دوبارہ آئی ایم ایف کو لے آتے ہیں۔
نواز شریف نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ پنجاب پر یلغار کرنے آ رہے ہیں کیا یہ دونوں صوبوں میں لڑائی کروانا چاہتے ہیں؟ آپ کے عزائم کیا ہیں؟ جیل سے کال آتی ہے کہ احتجاج کرو کیا وہاں سے کبھی فلاحی منصوبوں کی کال آئی؟