اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو آئینی ترمیم کا حتمی مسودہ دے دیا گیا، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مسودہ مولانا فضل الرحمان کو پیش کیا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان سے دو بار ملاقاتیں کیں، پہلی ملاقات کے بعد انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی پی اور جے یو آئی کے درمیان آئینی ترمیم پر اتفاق رائے پیدا ہوگیا ہے۔
بعد ازاں وزیر داخلہ محسن نقوی، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار دوسری بار، پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سید نوید قمر مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچے۔ پھر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ مولانا کے گھر پہنچے اور آئینی ترمیم کا حتمی مسودہ انہیں پیش کیا۔ ذرائع کے مطابق آئینی ترامیم مولانا فضل الرحمان پیش کریں گے۔
وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، شیری رحمان، نوید قمر اور مرتضیٰ وہاب بھی فضل الرحمان سے ملاقات میں موجود تھے۔ اس کے علاوہ بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔
بلاول کی آمد سے کچھ دیر قبل ہی پی ٹی آئی وفد نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور آئینی ترامیم پر بات کی تھی جس کے بعد پی ٹی آئی وفد عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل چلا گیا، بعد ازاں بیرسٹر گوہر کی قیادت میں پی ٹی آئی وفد دوبارہ جے یو آئی سربراہ کی رہائش گاہ پہنچا اور عمران خان کے ساتھ ہونے والی مشاورت سے آگاہ کیا۔
پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فضل الرحمان کی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے بات چیت کی اور روانہ ہوگئے۔
یاد رہے کہ بلاول بھٹو نے گزشتہ روز بھی فضل الرحمان سے دو ملاقاتیں کی تھیں، پہلی ملاقات کے وقت کل پی ٹی آئی کا وفد پہلے سے موجود تھا جس پر بلاول نے باہر رک کر فضل الرحمان کا انتظار کیا تھا۔
پی ٹی آئی وفد کی آج کے دن دوسری بار آمد
پاکستان تحریک انصاف کا وفد دوبارہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچ گیا اور پی ٹی آئی وفد نے بانی چیئرمین سے ملاقات پر مولانا فضل الرحمان کو اعتماد میں لیا۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی وفد نے مولانا فضل الرحمان کو بانی چئیرمین کا پیغام پہنچایا، پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ آئینی ترامیم پر مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے پیرتک آئینی ترامیم پر مشاورت کے لیے وقت مانگا ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس تاحال شروع نہیں ہوسکے۔ سینیٹ کا اجلاس رات 8بجے اور قومی اسمبلی کا اجلاس رات ساڑھے نو بجے طلب کیا گیا تھا۔
سینیٹ کا اجلاس شروع ہونے میں دو گھنٹے اور قومی اسمبلی کا اجلاس بھی شروع ہونے میں ایک گھنٹے کی تاخیر ہے۔