600 ارب روپے کے بجلی کے لائن لاسز ہیں، آج تنخواہوں سے زیادہ بلز آ رہے: شاہد خاقان

سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سالانہ 600 ارب روپے کے بجلی کے لائن لاسز ہیں، بجلی کیسے سستی دیں گے؟ آج تنخواہوں سے زیادہ بجلی کے بلز آ رہے ہیں، ملک کیسے چلے گا؟

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب میں شاہد خاقان عباسی کا کا کہنا تھاکہ ہمارے ملک کے جو حالات ہیں ہم کسی ایوارڈ کے حقدار نہیں، ملک میں ایوارڈ بانٹے جاتے ہیں، یوم آزادی پر 600 سے زائد ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں سمیت کسی کو ملکی حالات کا احساس نہیں، ہمیں اپنی برآمدات میں 20 ارب ڈالرز اضافہ کرنے کی ضرورت ہے، کاروباربڑھانے کی ضرورت ہے، ڈالر نیچے نہیں آئے گا، سپلائی اینڈ ڈیمانڈ کا مسئلہ ہے، پالیسیز کو درست کرنے کی ضرورت ہے، ایسے کام نہیں چلے گا-

ان کا کہنا تھاکہ جس ملک میں نیب جیسا ادارہ ہو گا وہ ملک نہیں چل سکتا، عمران خان نے چار سال کچھ نہیں کیا، ن لیگ کی حکومت بھی ایک سال میں کچھ نہیں کرسکی جس ملک میں سیاسی انتشار ہو وہ ملک نہیں چل سکتے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جب تک سیاستدان، اسٹیبلشمنٹ اور اسٹیک ہولڈرز ساتھ نہیں بیٹھتے مسائل حل نہیں ہو سکتے، آج ملک کے ادارے آپس میں دست وگریباں ہیں، چیف الیکشن کمشنر صدر سے اور صدرپارلیمان سے لڑ رہے ہیں، ملک کو تین صاف وشفاف الیکشن دیں، مسائل ٹھیک ہو جائیں گے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومتیں آسان فیصلے کرتی ہیں، مشکل اوربہترین فیصلےکرنے کی ضرورت ہے، موجودہ حالات کے سب سے زیادہ ذمہ دار سیاستدان ہیں، 600 ارب روپے سالانہ کے  بجلی کے لائن لاسز ہیں، بجلی کیسے سستی دیں گے؟ آج تنخواہوں سے زیادہ بجلی کے بلز آ رہے ہیں، ملک کیسے چلے گا؟

ان کا کہنا تھاکہ ملک کی سیاسی قیادت کے پاس وقت نہیں رہا، انہیں ہوش کے ناخن لینے ہونگے،  یہ سیاستدانوں کے پاس آخری موقع ہے ورنہ نتائج کے سب ذمہ دار ہونگے، نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے، جب تک حکومتوں کی کاروبار میں مداخلت رہے گی، مسائل اسی طرح رہینگے-

شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ ن
Comments (0)
Add Comment