لاہور: پنجاب یونین آف جرنلسٹس نے کل 29 مارچ کو سہ پہر تین بجے لاہور پریس کلب کے باہر بھرپور احتجاجی
مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ احتجاج بنیادی طور پر میڈیا اداروں میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور پیکا کے کالے قانون کے خلاف ہوگا۔ لاہور پریس کلب میں منعقدہ اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا کہ میڈیا مالکان بے حسی کی انتہا کو چھو رہے ہیں۔ حکومت نے انہیں میڈیا انڈسٹری کو بیل آوٹ پیکج کے تحت اربوں روپے کے اشتہارات دئیے ہیں مگر ان میں سے بیشتر ادروں نے عید سر پر ہونے کے باوجود بھی اپنے ادروں میں گنتی کے چند ملازمین کو بھی تنخواہیں دینا گورا نہیں کیا ۔
پی یو جے کے جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا اس وقت افسوس ناک یہ امر ہے کہ میڈیا اداروں میں رپورٹرز ۔ سب ایڈیٹرز ، فوٹو گرافرز ۔ کاپی ایڈیٹرز ،کیمرہ مین کو گریڈ تھری کی تنخواہ نہیں دی جا رہی اور انہیں کم سے کم تنخواہ 37 ہزار کا لالی پاپ دینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
پنجاب اسمبلی پریس گیلری صدر خواجہ نصیر نے کہا کہ وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخآری اپنے بیان کے مطابق بتائیں کہ انہوں نے میڈیا مالکان سے 20 مارچ تک تنخواہیں اور واجبات کی لسٹ مرتب کی یا نہیں کی اور اگر کوئی لسٹ مرتب ہوئی تو ان کے خلاف کیا کارروائی اب تک کی گئی ہے۔ اجلاس میں شرکاء نے پیکا کے کالے قانون اس کے تحت مقدمات کے اندارج کی بھی شدید مذمت کی اور فیصلہ کیا گیا کہ کل کے احتجاج میں پیکا کے قانون کے خلاف بھی بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔
اجلاس میں لاہور پریس کلب کے ممبر گورننگ باڈی عمران شیخ، رانا شہزاد ، محبوب چودھری سمیت ایسوسی ایشن آف فوٹو جرنلسٹس کے صدر وسیم نیاز، ،ذوالفقار علی مہتو، رفیق خان ،، سعید اختر ، نواز طاہر ، حبیب چوہان، صلاح الدین بٹ ،سپورٹس جرنلسٹس فیڈریشن پاکستان کے صدر اقبال ہارپر، محمد بابر ،اے آر گل، محسن بلال اور صحافیوں کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔