سینیٹ نے 8 فروری کو عام انتخابات ملتوی کرانے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی

اسلام آباد: سینیٹ نے ملک میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات ملتوی کرانے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی۔

سینیٹر دلاور خان نے عام انتخابات ملتوی کرانے کی قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا ہےکہ اکثر علاقوں میں سخت سردی ہے، اس وجہ سے ان علاقوں کی الیکشن عمل میں شرکت مشکل ہے۔

دلاور خان نے کہا کہ جے یو آئی ف کے ارکان اور محسن داوڑ پر بھی حملہ ہوا، کے پی اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر حملے ہوئے ہیں جب کہ ایمل ولی کو بھی تشویش ہے۔

سینیٹر دلاور خان کا کہنا تھا کہ الیکشن ریلی کے دوران انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تھریٹ الرٹ ہیں، سینیٹ کہتا ہے کہ مسائل حل کیے بغیر الیکشن کا انعقاد نہ کیا جائے، 8 فروری کے الیکشن شیڈول کو ملتوی کیا جائے، الیکشن کمیشن انتخابات ملتوی کرانے پر عمل کرے، سینیٹ الیکشن کمیشن پر اعتماد کرتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر افنان اللہ نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ میں سینیٹر دلاور خان کی وجوہات کو درست کرنا چاہتا ہوں،  ملک میں سکیورٹی کےحالت ٹھیک نہیں لیکن 2008 اور 2013 میں حالات اس سے زیادہ خراب تھے، سکیورٹی کا بہانہ کرکے الیکشن ملتوی کریں گے تو کبھی الیکشن نہیں ہوں گے۔

نگران وزیر اطلاعات اور (ن) لیگ کے سینیٹر افنان اللہ کی مخالفت

افنان اللہ کا کہنا تھا کہ کیا دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ اور امریکا نے الیکشن ملتوی کیا، موسم کا بہانا بنایا جاتا ہے، فروی میں دو مرتبہ الیکشن ملتوی ہو چکے ہیں۔

لیگی رہنما نے مزید کہا کہ یہ بوٹ پولش شروع ہوگئی ہے، کیا پاکستان آئینی ادارے پارلیمنٹ کے بغیر چلایا جائے گا۔

سینیٹر ثمینہ ممتاز کا کہنا تھا کہ موسیماتی تبدیلی پہلے نہیں تھی، اب ملک کے حالات بدل رہے ہیں، ہم اپنی فوج کی عزت کرتے ہیں۔

سینیٹر کہدہ بابر نے کہا کہ مجھے خوشی ہوئی ہے کہ میری بات مانی گئی ہے، اس ملک میں ایسے علاقے ہیں جہاں الیکشن نہیں ہوسکتے۔

اس دوران پیپلز پارٹی کے سینیٹر بہرہ مند تنگی خاموش بیٹھے رہے۔

وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے بھی قرارداد کی مخالفت کی تاہم سینیٹ نے 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات ملتوی کرانے کی قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

سینیٹ الیکشن ملتوی قرارداد منظور انتخابات پارلیمنٹ
Comments (0)
Add Comment