20 اپریل، خوشی کا عالمی دن

247

آج بیس اپریل بدھ کے روز خوشی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے اور ساتھ ہی جرمنی میں موسم بہار بھی آج ہی سے شروع ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر عام انسانوں کی رائے البتہ بہت مختلف اور متنوع ہے کہ خوشی کس کو کہتے ہیں۔

معروف جرمن مصنف اور ڈرامہ نگار بیرٹولٹ بریشت نے 1930ء کی دہائی کے وسط میں اس دور میں پرورش پانی والی نازی سوچ کے لیے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ‘بعد میں پیدا ہونے والوں کے نام‘ نامی نظم میں لکھا تھا:

”یہ بھی کیسا وقت ہے جب پیڑوں کے بارے میں بات کرنا تقریباﹰ جرم ہے

اور بہت سے برے اعمال کے بارے میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے‘‘

یہ حوالہ اس لیے اہم ہے کہ آج پھر کافی حد تک ناامید کر دینے والی صورت حال ہے اور لوگ پوچھتے ہیں کہ ایک طرف اگر کورونا وائرس کی عالمی وبا کو تقریباﹰ ڈھائی سال ہونے کو ہیں تو دوسری طرف روس یوکرین پر فوجی حملہ کر کے ایک نئی جنگ کا آغاز کر چکا ہے۔ تو کیا ایسے میں خوشی کے بارے میں بات کرنا درست ہو گا؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ تمام انسان، جو عالمی سیاست اور معیشت کی موجودہ پریشان کن صورت حال کے باوجود خوش مزاج رہنا چاہتے ہیں اور امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہتے، ان کے لیے بیس اپریل خوشی کے عالمی دن کے طور پر آج بھی اہم ہے۔ اس لیے کہ حالات کیسے بھی ہوں، انسان کی خوش رہنے کی خواہش کبھی مرتی نہیں اور وہ بنیادی طور پر مثبت سوچ کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے ہر سال بیس اپریل کو خوشی کا عالمی دن منائے جانے کا فیصلہ 28 جون 2012ء کے روز کیا تھا اور پہلی مرتبہ یہ عالمی دن 2013ء میں منایا گیا تھا۔ اس دن کو منانے کا مقصد زمین پر آباد انسانوں کو یہ احساس دلانا تھا کہ ان کی زندگیوں میں خوشی کتنی اہم ہوتی ہے۔

2015ء میں اقوام متحدہ نے دیرپا ترقی کے اہداف سے متعلق اپنے جو 17 مقاصد عملی طور پر متعارف کرائے تھے اور جن کے حصول کے لیے باقاعدہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا، ان کا اجتماعی مقصد بھی یہی تھا کہ عام انسان اپنی زندگی خوشی سے گزار سکیں۔

جرمن باشندوں کے لیے دوہری خوشی

جرمن باشندوں کے لیے آج خوشی کا عالمی دن اس لیے دوہری خوشی کا باعث ہے کہ آج بدھ بیس اپریل سے جرمنی میں موسم بہار کا باقاعدہ آغاز بھی ہو رہا ہے۔ موسم بہار انسانی رویوں پر اس لیے مثبت انداز میں اثر انداز ہوتا ہے کہ کم از کم یورپ میں سردیوں کے مقابلتاﹰ مختصر، تاریک اور بہت ٹھنڈے دنوں کے بعد درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور دن کہیں زیادہ روشن اور طویل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

دنیا کی سب سے زیادہ خوش رہنے والی قومیں

خوشی کے عالمی دن کے موقع پر ہی گزشتہ ایک دہائی سے ہر سال ایک فہرست بھی جاری کی جاتی ہے، جس میں دنیا کی سب سے زیادہ خوش اور مطمئن رہنے والی قوموں کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ نیو یارک میں سال 2021ء کے لیے جاری کردہ ایسی تازہ ترین درجہ بندی میں شمالی یورپی ملک فن لینڈ مسلسل پانچویں مرتبہ پہلے نمبر پر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فن لینڈ کے باشندے دنیا کی سب سے زیادہ خوش رہنے والی قوم ہیں۔

فن لینڈ کے بعد اس عالمی فہرست میں اسکینڈے نیویا کا ملک ڈنمارک دوسرے نمبر پر رہا جبکہ آئس لینڈ گزشتہ عالمی رینکنگ میں اپنی چوتھی پوزیشن سے اس سال تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ آئس لینڈ کے بعد اس درجہ بندی میں بالترتیب سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈز، لکسمبرگ، سویڈن، ناروے، اسرائیل، نیوزی لینڈ اور آسٹریا کے نام آتے ہیں۔

جرمنی اس عالمی رینکنگ میں پچھلی مرتبہ ساتویں نمبر پر تھا۔ اس سال تاہم اس کی رینکنگ کافی زیادہ کمی کے بعد ساتویں سے 14 ویں ہو گئی ہے۔

خوشی کس کو کہتے ہیں؟

دنیا بھر کے انسانوں میں اس بارے میں کئی طرح کی رائے پائی جاتی ہے کہ خوشی کس کو کہتے ہیں۔ جرمن ماہر نفسیات اور مصنف مانفریڈ لیُوٹس کہتے ہیں کہ حقیقی خوشی مادی جائیداد اور اشیاء کے حصول سے نہیں ملتی بلکہ اس کا معیار بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہ اس بارے میں ایک بہت زیادہ بکنے والی کتاب کے مصنف بھی ہیں کہ ہر حال میں خوش کیسے رہا جا سکتا ہے۔

مانفریڈ لیُوٹس کے بقول، ”انسان حقیقی طور پر خوش اسی وقت رہ سکتا ہے، جب اسے اپنی زندگی میں مقصدیت نظر آتی ہو اور اسے اپنے بارے میں یہ شعور بھی ہو کہ وہ کسی بھی طرح کے بحرانی حالات میں خود کو کسی خلا میں گرنے نہیں دے گا۔‘‘

Leave A Reply

Your email address will not be published.