گلوکار سدھو موسے والا کے قتل سے متعلق اہم حقائق سامنے آگئے

299

بھارتی پنجاب میں قتل ہونے والے گلوکار اور اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما سدھو موسے والا کے قتل سے متعلق اہم حقائق سامنے آگئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کو قتل کرنے کے لیے تقریباً 8 سے 10 حملہ آوروں نے 30 سے ​​زیادہ گولیاں ماریں، اور اس کے بعد   بھی حملہ آوروں نے اس بات کی تسلی کی کہ کہیں گلوکار زندہ تو نہیں بچ گئے۔

اس بہیمانہ قتل سےجُڑے دس اہم حقائق یہ ہیں؛

1-  اس قتل میں ملوث 6 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور پنجاب کے ضلع مانسا میں قتل کی جگہ سے ملنے والی گولیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے میں (AN 94) روسی اسالٹ رائفل کا استعمال کیا گیا تھا، جبکہ پولیس کو ایک پستول بھی ملا ہے۔

2- کینیڈا میں مقیم گینگسٹر گولڈی برار نے گزشتہ شام ایک فیس بک پوسٹ میں سدھو موسے والا کے قتل کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

3-مانسا سے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج میں سدھو موسے والا کے قتل سے کچھ لمحے پہلے ان کی گاڑی کے پیچھے دو کاریں دکھائی دے رہی ہیں، لیکن ریاستی پولیس نے اس ویڈیو کی ابھی تصدیق نہیں کی ہے۔

4- پنجاب پولیس کو شک ہے کہ سدھو موسے والا کے قتل کی وجہ گینگ سے دشمنی ہے۔

5- گلوکار کے قتل کا مرکزی ملزم گولڈی برار گینگ لیڈر لارنس بشنوئی کا قریبی ساتھی ہے، لارنس بشنوئی پنجاب یونیورسٹی کا سابق اسٹوڈینٹ لیڈر ہے۔

6- گولڈی برار متعدد مجرمانہ مقدمات میں ملوث ہے، فرید پور کی ایک عدالت نے اس ماہ کے آغاز میں گولڈی برار کے خلاف کانگریس کے ایک کارکن، گرلال سنگھ پہلوان کے قتل کے سلسلے میں کھلے عام ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیا تھا۔

7- 28 سالہ سدھو موسے والا نے مانسا سے کانگریس کے امیدوار کے طور پر پنجاب کا الیکشن لڑا تھا اور انہیں (AAP) کے امیدوار وجے سنگلا نے شکست دی تھی، وجے سنگلا کو گزشتہ ہفتے پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے بدعنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا تھا۔

8- اتوار کو موسے والا اپنے کزن گرپریت سنگھ اور پڑوسی گروندر سنگھ کے ساتھ شام 4 بجکر 30 منٹ پر گھر سے نکلےتھے اور  پولیس کے مطابق، موسے والاگاڑی خود چلا رہے تھے۔

9- جب گاڑی گاؤں جواہرکے پہنچی تو ایک کار جو ان کے پیچھے آئی تھی اور ان سے آگے دو اور گاریوں نے ان کا راستہ روک لیا۔ سدھو موسے والا پر سامنے سے شدید فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں گلوکار موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

10- پولیس کا کہنا ہے کہ یہ قتل گزشتہ سال ہونے والے اکالی لیڈر وکی مڈوکھیرا کے قتل کا بدلہ لگتا ہے، کیونکہ سدھو موسے والا کے منیجر شگن پریت کو اس قتل میں ملوث پایا گیا تھا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.