چین کے لیے جاسوسی کا الزام، امریکی بحریہ کے دو اہلکار گرفتار

72


واشنگٹن:امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے دو حاضر سروس ارکان کو چین کے لیے جاسوسی کرنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔


فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان امریکی اہلکاروں پر شک ہے کہ وہ بیجنگ کو خفیہ معلومات فروخت کررہے رہے تھے جس میں جنگی جہازوں اور ان کے ہتھیاروں کے نظام کے ساتھ ساتھ ریڈار سسٹم کے بلیو پرنٹس اور ایک بڑی امریکی فوجی مشق کے منصوبے شامل تھے۔


ایف بی آئی کے کاؤنٹر انٹیلی جنس ڈویژن سے وابستہ سوزین ٹرنر نے بتایا کہ یہ گرفتاریاں عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے ہماری جمہوریت اور اس کا دفاع کرنے والوں کو کمزور کرنے کی مسلسل اور جارحانہ کوششوں کی یاد دہانی کراتی ہیں۔


ان کا کہناہےکہ چین نے حساس فوجی معلومات کو محفوظ کرنے کے لیے ان اہلکاروں سے سمجھوتہ کیا جس سے امریکی قومی سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔


ایک پریس ریلیز میں محکمہ انصاف نے کہا کہ سان ڈیاگو میں یو ایس ایس ایسیکس نامی بحری جہاز پر کام کرنے والے سیلر جنچاو وی نے جہازوں کے آپریشن اور ان کے نظام کے بارے میں درجنوں دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز چین کے حوالے کی ہیں۔ان معلومات میں تکنیکی اور مکینیکل مینولز بھی شامل تھے جو ان کے اپنے جہاز کے ہتھیاروں سے متعلق تھے۔


22 سالہ اہلکار پر الزام ہے کہ ان معلومات کے لیے انہیں ہزاروں ڈالر ادا کیے گئے تھے اور ان کو جرم ثابت ہونے پر جیل میں عمر قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔


ایک دوسرے کیس میں محکمہ انصاف نے کہا کہ پیٹی آفیسر 26 سالہ وین ہینگ ژاؤ نے لاس اینجلس کے شمال میں واقع نیول بیس وینٹورا کاؤنٹی میں اپنے عہدے پر رہتے ہوئے تقریباً دو سال تک چین کے لیے جاسوسی کی۔


ژاؤ پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک چینی انٹیلی جنس ایجنٹ سے انڈو پیسیفک میں ایک بڑی امریکی فوجی مشقوں کے بارے میں معلومات کے لیے تقریباً 15 ہزار ڈالر وصول کیے تھے جس میں جہازوں کے لنگر انداز ہونے کے وقت اور مقام کی تفصیلات بھی شامل تھیں۔


ژاؤ پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے جنوبی جاپان میں امریکی فوجی اڈے پر ریڈار سسٹم کے لیے الیکٹریکل ڈایاگرام اور بلیو پرنٹس چینی اداروں کے حوالے کیے تھے، جاپان کے اس علاقے میں امریکہ کی فوج بڑی تعداد میں تعینات ہے۔


امریکی اٹارنی مارٹن ایسٹراڈا نے کہا کہ یہ حساس فوجی معلومات ایک دشمن ریاست کے ایک انٹیلی جنس افسر کو بھیج کر ملزم نے ہمارے ملک کے دفاع کے لیے اپنے مقدس حلف کو توڑا ہے۔


ان کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے اہلکاروں کی اکثریت کے برعکس جو عزت، امتیاز اور جرات کے ساتھ قوم کی خدمت کرتے ہیں، ژاؤ نے بدعنوانی سے اپنے ساتھیوں اور اپنے ملک کو فروخت کرنے کا انتخاب کیا۔
جرم ثابت ہونے پر ژاؤ کو 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.