پرویز خٹک کی نئی پارٹی بننے کے دو گھنٹوں کے بعد ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار، کئی رہنماؤں کا اظہار لاتعلقی

88

خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر مشتاق غنی، سابق معاون خصوصی اقلیتی امور وزیرزادہ، سابق ارکان صوبائی اسمبلی اعظم خان، قلندر لودھی، افتخار مشوانی، عزیزاللہ گران اور مصور خان نے نئی جماعت پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز میں شمولیت کی تردید کر دی۔

سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے سابق معاون خصوصی اقلیتی امور وزیرزادہ نے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ میں اجلاس میں شریک ہوا اور نہ ہی پرویز خٹک کی پارٹی میں شامل ہوا اور پارٹی چھوڑنے کی خبروں میں صداقت نہیں۔

پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے افتخار مشوانی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف میری پہلی اور آخری پارٹی ہے، چئیرمین اور پارٹی سے ناطہ توڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، مجھے کسی میٹنگ میں نہیں بلایا گیا اور نہ میرا کسی سے رابطہ ہوا ہے۔

سابق ایم پی اے اعظم خان کا کہنا ہے کہ عمران کا سپاہی تھا، سپاہی ہوں اور آخری سانس تک رہوں گا۔ 

ان کا کہنا تھاکہ سوشل میڈیا پرمیری پی ٹی آئی چھوڑنے کی خبریں من گھڑت ہیں۔

پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے عزیز اللہ گران نے بھی پی ٹی آئی پی میں شمولیت کی تردید کی اور کہا کہ میں پاکستان سے 15 ہزار کلو میٹر دور کینیڈا میں ہوں اور پرویز خٹک نے مجھے پارٹی میں شامل کردیا۔

اس کے علاوہ سابق ایم پی اے مصور خان نے بھی پی ٹی آئی نہ چھوڑنے کا اعلان کیا اور کہا کہ تحریک انصاف چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا، ورکرز مطمئن رہیں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر مشتاق احمد غنی نے کہا ہے کہ علاج کیلئے ملک سے باہر ہوں تو اجلاس میں کیسے شرکت کرلی؟ کل بھی خان کے ساتھ تھا اور آج بھی ہوں۔

خیال رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں نئی جماعت تحریک انصاف پارلیمنٹیرینزکا قیام عمل میں آیا ہے اور سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کو پارٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

پارٹی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جماعت میں سابق وزیراعلیٰ کے پی محمودخان، سابق وزرا اوردرجنوں ارکان شامل ہوئے ہیں جبکہ نئی پارٹی میں گزشتہ حکومت سے وابستہ 57 سے زائد اراکین اسمبلی شامل ہیں اور مزید شمولیتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.