نگران حکومت کے دورانیے میں توسیع، آئی ایم ایف نے مل کر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی

71

سلام آباد: آئی ایم ایف نے نگران حکومت کے دورانیے میں ممکنہ توسیع پر نگران حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی کا اظہار کر دیا ہے جس کے بعد اب اہم وزارتوں کےلیے سلیکشن جاری ہے۔

نگران وزیراعظم کےلیے جلیل عباس جیلانی کا نام ایک مضبوط امکان کا حامل ہے جب کہ آئندہ وزیر خزانہ کے لیے سلطان الانہ، شبرزیدی، طارق باجوہ، ڈاکٹر اشفاق حسن خان اور دیگر کے ناموں پر غور کیاجارہا ہے۔

دوسری اہم اقتصادی وزارتیں جن میں اکنامک افیئر ڈویژن، تجارت، صنعت، زراعت، پرائیویٹائزیشن اور بورڈ آف ریونیو چند ایسے نام ہیں جنہیں چلانے کےلیے محمد میاں سومرو، اعجاز گوہر اور دیگر چند کے نام زیر غور ہیں۔

  سابق چیئر مین ایف بی آر شبر زیدی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وہ اپنی ذاتی وجوہات کی بنا پر آئندہ نگران حکومت میں کوئی بھی عہدہ لینے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

اعلیٰ سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد نے اس حوالے سے آئی ایم ایف کو بھی اعتماد میں لیا ہے کہ نگران حکومت کے دورانیے میں توسیع ہوسکتی ہے کیونکہ مردم شماری کی منظوری کے بعد اب الیکشن کمیشن آف پاکستان کو حلقہ بندیوں کےلیے چار ماہ چاہیے ہوں گے جب کہ مزید دو ماہ میں انتخابی عمل کو مکمل کرنے کےلیے درکار ہوں گے چنانچہ یہ تو ممکن نہیں کہ انتخابات 2023 میں ہوں۔ اس امرکا امکان موجود ہے کہ انتخابات 2024 کی پہلی سہ ماہی میں جنوری اور مارچ کے درمیان ہوں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے نگران حکومت کے ساتھ مل کر مارچ یا اپریل 2024 تک پورے ہونے والے 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام کےلیے کام کرنے پرآمادگی ظاہر کردی ہے۔

آئی ایم ایف سے اس منظور ی کے بعد اب اہم وزارتوں وزارت خزانہ کےلیے سلیکشن کا عمل جاری ہے اوراس کےلیے غالب ترین نام سلطان الانہ ہیں جو کہ ایک بینکر ہیں۔

ڈاکٹر اشفاق حسن خان وزارت خزانہ کے سابق خصوصی سیکرٹری ہیں جب کہ طارق باجوہ سبکدوش ہونے والے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ و ریونیو ہیں اور وہ سابق گورنر اسٹیٹ بینک بھی رہ چکے ہیں۔

ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ اگر نگران وزیراعظم جلیل عباس جیلانی بنتے ہیں تو سلطان الانہ کے وزیر خزانہ بننے کا غالب امکان ہے۔

اگر ڈاکٹر حفیظ شیخ کو نگران وزیراعظم بنایاجاتا ہے تو سلطان الانہ اور اشفاق احمد خان دونوں کے وزیرخزانہ بننے کے چانسز معدوم ہوجائیں گے۔ اسحق ڈار چاہتے ہیں کہ ان کی پالیسیوں کو جاری رکھاجائے اور اس مقصد کےلیے طارق باجوہ کو نئے سیٹ اپ میں رکھاجائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.